spot_img

ذات صلة

جمع

پاکستان میں عاشور

تہران/ ارنا- پاکستان میں بھی عاشقان امام حسین (ع)...

جوشخص کہتا ہے یزید ملعون پرلعنت نہ کریں، وہ اپنے ایمان کی فکر کرے، طاہرالقادری

شیعہ نیوز: تحریک منہاج القرآن کے بانی و سرپرست اعلیٰ...

جوشخص کہتا ہے یزید ملعون پرلعنت نہ کریں، وہ اپنے ایمان کی فکر کرے، طاہرالقادری

شیعہ نیوز: تحریک منہاج القرآن کے بانی و سرپرست اعلیٰ ڈاکٹر محمد طاہر القادری نے یوم عاشورہ پر اپنے پیغام میں کہا ہےکہ حسینیت اور یزیدیت دو بیانئے اور دو نظریات ہیں۔ یزید بدترین ملوکیت اور امام حسینؑ مصطفوی تعلیمات،احتساب اور جوابدہی پر مبنی خلافت راشدہ کے نظام کے محافظ تھے۔ علما کی ذمہ داری ہے کہ وہ سانحہ کربلا کی اصل فکر اور تعلیمات کے بارے میں نوجوانوں کو آگاہ کریں، یہ محض تاریخ نہیں ایمان و یقین کا معاملہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ یزید سیاسی،اخلاقی اور مالی کرپشن کا بانی تھا۔ یزید نے نظام خلافت کی اخلاقی قدروں کو پامال کیا، خلافت راشدہ نظام مصطفیٰ ﷺ کی عملی شکل ہے۔ ملعون یزید نے خلافت راشدہ کو بدترین ملوکیت اور کرپٹ آمریت میں بدل دیا۔ انہوں نے کہا کہ خلافت راشدہ کے نظام میں خلیفہ راشد حضرت عمر فاروقؓ کو دجلہ کے کنارے بھوک پیاس سے مرنے والے بکری کے بچے کی بھی فکر تھی جبکہ یزیدی آمریت میں خانوادہ رسول کے مقدس نفوس بے دردی سے شہید کر دیئے گئے اور عمائدین سلطنت کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگی۔ سیدنا امام حسینؑ تاجدار کائنات ﷺ کی تعلیمات کے امین اوروارث تھے۔

انہوں نے کہا کہ خلافت راشدہ میں نیکی، تقویٰ، طہارت اور اہلیت کی بنیاد پر عہدے دیئے جاتے تھے، جبکہ یزید نے اقتدارپر تسلط حاصل کرنے کے بعد بزرگ تجربہ کار، دیانت دار، امین، صالح اور ایمانی غیرت والے افراد کو ریاستی عہدوں سے ہٹا کراہم مناصب اپنے حاشیہ برداروں، بدکرداروں، خاندان کے لونڈوں اور بدقماشوں کو دے دیئے۔ تاجدار کائنات ﷺ نے امت کو اخلاقی قدروں میں لپٹا ہوا جو سیاسی، اخلاقی کلچر دیا تھا، یزید نے ہوس اقتدار میں اسے ملیا میٹ کر دیا۔ یزید کے ظلم کے خلاف جو کوئی بھی زبان کھولتا تھا، اس کی گردن مار دی جاتی تھی۔ واقعہ کربلا محض سیدنا امام حسینؑ کی اذیت ناک شہادت تک محدود نہیں بلکہ یہ یزیدی سوچ اور طرز حکمرانی کا ایک نوحہ اور المیہ ہے جس نے امت کی وحدت کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا۔

یہ بھی پڑھیں : ‏لو جی! مسلمانوں نے پانی، شربت اور سبیل پلانے کو حرام قرار دے دیا،اب سمجھ آیاحسین ؑ کو کس نے پیاسا قتل کیا تھا

انہوں نے کہا کہ یزید کی آتشِ انتقام سیدنا امام حسین ؑ کو شہید کرنے کے بعد بھی نہ بجھی۔ جب اس المناک شہادت پر اہل مدینہ نے احتجاج کیا تو یزید نے افواج بھیج کر مدینہ منورہ کو تاخت و تاراج کر دیا۔ یزیدی افواج نے مسجد نبوی میں اپنے گھوڑے، اونٹ اور خچر باندھ دیئے۔ تین دن تک مسجد نبوی میں اذان، نماز اور جماعت معطل رہی۔ ان واقعات پر مؤرخین، محدثین، علما کا کوئی اختلاف نہیں۔ یزید نے مدینہ بھیجی جانیوالی اپنی افواج کو یہ اجازت دی تھی کہ خون بہائو، عزتیں لوٹو، قتل عام کرو تم پر مباح ہے۔

انہوں نے کہا کہ یزیدی فوج کی قتل و غارت گری کے باعث لاتعداد صحابہ کرامؓ اور تابعینؒ شہید ہوئے، ان کی قبریں جنت البقیع میں موجودہیں۔اہلِ مدینہ کے بعد اہلِ مکہ نے احتجاج کیا تو یزیدی افواج نے وہاں بھی ظلم کے پہاڑ توڑے۔ کعبۃ اللہ پر تیر برسائے، آگ لگائی، اس حملہ میں کعبۃ اللہ کا نہ صرف غلاف جلا بلکہ کعبۃ اللہ کا بہت سارا حصہ بھی جل گیا۔ کیا کوئی کلمہ گو مسلمان شہرِ نبی، مسجد نبوی اور کعبۃ اللہ کی حرمت کو پامال کر سکتا ہے؟ یزید ملعون نے اپنے مختصر عرصۂ اقتدار میں اسلام کے سیاسی کلچر کو سخت نقصان پہنچایا۔

انہوں نے کہاکہ خلافت راشدہ کا مالیاتی کلچر یہ تھا کہ ایک عام شہری خلیفہ وقت سے پوچھ سکتا تھا کہ مال غنیمت کی ایک چادر سے ہماری قمیض نہیں بنی آپ کا کرتا کیسے بن گیا؟ یزید اور اس کے حواریوں نے اس کے برعکس قومی خزانے کو شیر مادر کی طرح ہڑپ کیا۔ سادگی کو عیش پرستی میں تبدیل کر دیا، قومی دولت کو خوشامدیوں اور یزید کے حواریوں پر نچھاور کیا جاتا رہا۔ یزید کا محل عیاشی کا اڈہ اور حدود کو توڑنے کا مرکز بنا ہوا تھا۔ یزید ملعون نے جھوٹ، تہمت اور بدکاری کے کلچر کی حوصلہ افزائی کی، اس کے باوجود اگر کوئی یہ کہتا ہے کہ یزید پر لعنت نہ کی جائے تو اسے اپنے ایمان کی فکر کرنی چاہئے۔

 

 

The post جوشخص کہتا ہے یزید ملعون پرلعنت نہ کریں، وہ اپنے ایمان کی فکر کرے، طاہرالقادری appeared first on شیعہ نیوز پاکستان.

​ 

spot_imgspot_img