شیعہ نیوز: کئی لوگ “جنازوں پر تعداد” کے معروف عام جملے کو بطور طنز و مزاح استعمال کر رہے ہیں اور ماضی کے کئی جنازوں پر یہ جملہ طنز و مزاح کے پیرائے میں استعمال ہو بھی سکتا ہے۔ بہرحال یہ جملہ شہید رہبر کے جنازے پر تعداد کے بارے میں ایک الگ معنی رکھتا ہے۔
چار جولائی سے نو جولائی تک شہید رہبرِ اعلی کے جنازے کے تہران، قم،نجف، کربلا اور پھر مشہد میں منعقد ہونے والے اجتماعات اور ان میں امڈ آنے والے انسانی سیلاب مشرق وسطیٰ کی نئی تاریخ لکھ رہے ہیں اور اس خطے کی پوری سیاست کو ایک نیا موڑ دے رہے ہیں۔
فروری 28 کی صبح امریکہ/ اسرائیل نے شدید سفارتی خیانت کا مظاہرہ کیا اور سفارتی مذاکرات کے دوران رہبر اعلیٰ کے گھر پر حملہ کر کے انہیں، ان کی بیٹی بشری خانم، چودہ ماہ کی نواسی اور داماد سب کو شہید کر دیا تھا۔
اس وقت سے لیکر بلا مبالغہ جنازے کے اجتماعات شروع ہونے سے ایک دن پہلے تک کے امریکہ و اسرائیل کے تمامتر اندازے غلط ثابت ہوئے ہیں۔ ٹرمپ کا اپنا بیان شاہد ہے کہ بزعم خود اپنے آپ کو سپر پاور کہنے والی ریاست امریکہ کی ایجنسیاں، سیاستدان، افواج اور ادارے زمینی حقائق سے کتنے بے خبر ہیں۔ جنازے کے اجتماعات میں شریک لاکھوں افراد، یہ صرف ایک جذباتی منظر نہیں بلکہ پورے خطے کی جیو پولٹیکل تبدیلیوں کا مظہر ہے۔
صرف تہران میں ہونے والے پہلے اجتماع میں تہران میٹرونیٹ کے مطابق تہران کی جانب سفر کرنے والوں کی تعداد 71 لاکھ اکتالیس ہزار سے کچھ اوپر تھی۔ یاد رہے یہ تعداد صرف ان کی ہے جو میٹرو سے سفر کر کے آئے تھے، اس کے علاوہ مختلف ذرائع سے آنے والے الگ ہیں۔
مزید برآں سرکاری اعداد و شمار کے مطابق بیس لاکھ افراد تہران کے ارد گرد مضافات میں ٹریفک میں پھنسے رہے اور جنازے میں شریک نہیں ہو سکے۔
ان سب کو ملایا جائے تو سرکاری اعداد و شمار کے مطابق یہ تعداد ڈیڑھ کروڑ کے آس پاس ہے۔ پھر تہران کی مرکزی شاہراہوں سے گزر کر مہرباد ایئر پورٹ تک شہید رہبر اور ان کے اہلخانہ کے جنازوں کے ساتھ چلتا جم غفیر ہے۔ میڈیا رپورٹوں میں واضح ہے کہ یہ گویا ایک انسانی سیلاب تھا جس کی وجہ سے مہرباد ایئر پورٹ پہنچنے تک تیرہ گھنٹے سے اوپر وقت لگا۔
یہ بھی پڑھیں : شہید آیت اللہ سید علی خامنہ ای مقاومت اور حریت پسندی کی علامت ہیں، تونس کی سول سوسائٹی کے اراکین کا بیان
الجزیرہ نے ایک رپورٹ میں کہا ہے کہ شہید رہبر کا جنازہ، اب تک کی معلوم انسانی تاریخ کا سب سے بڑا جنازہ بننے جا رہا ہے۔ یہ جنازہ، صرف اعداد و شمار نہیں، بلکہ مشرق وسطی کے حالات پر نظر رکھنے والوں کے لیے بہت بڑا سرپرائز ہے۔
تہران کے مضافاتی علاقے پارس، جو شدید حکومت مخالف علاقہ رہا ہے اور ہنگامہ آرائیوں کا مرکز رہا ہے، میں بھی شہید رہبر کے حوالے سے نظریاتی تبدیلیاں آ رہی ہیں۔ گویا شہید رہبر نے پورے ایران میں، خواہ وہ انقلاب مخالف طبقہ ہو یا حامی، ایک نئی وحدت کی روح ڈال دی ہے۔
ان کی شہادت نے ایران کے اندرونی سماجی اور سیاسی انتشار کو ختم کر کے قوم کو ایک مشترکہ دشمن کے خلاف متحد کر دیا ہے اور یہ چیز امریکہ/ اسرائیل کیلئے سب سے بڑا خطرہ ہے۔
پوری دنیا سے سرکاری وفود کا آنا الگ، ایران کے اپنے اندر سے ایرانی قوم کی وحدت سے امریکا / اسرائیل میں تشویش ہے کیونکہ جنازے سے پہلے والے ان کے ایران بارے زمینی اندازے سب غلط مفروضے ثابت ہو رہے ہیں۔ اب کوئی بھی جارحیت اس امید پر نہیں ہو سکتی کہ ایرانی عوام، نظام کے خلاف نکل کھڑی ہو گی بلکہ اس کے برعکس اگر کوئی جارحیت ہوتی ہے تو پورا ایران، مذہبی و غیر مذہبی طبقہ، ایک قوم کے طور پر ناقابل شکست بن جائے گا۔
شہید رہبر کی زندگی تو زندگی، ان کی شہادت نے بھی تاریخ کا رخ بدل کر رکھ دیا ہے۔ ایرانی قوم کا شہید رہبر کے جنازے پر پاور اور وحدت شو، واضح پیغام دے رہا ہے کہ ایران کسی بھی صورت نظام سے، یا رجیم سے، دغابازی نہیں کرے گا نہ ہی کسی بیرونی دبائو پر آبنائے ہرمز یا اپنے کسی اور حق سے دستبردار ہو گا۔
البتہ جنگ بندی کے ان امن کے دنوں کو ایران اپنی میزائل صلاحیت کو نکھارنے اور دفاعی حکمت عملی کو بہتر بنانے کے لئے ضرور استعمال کرے گا۔
۔۔۔تحریر : گل زہرا رضوی۔۔۔
The post شہید رہبر کی زندگی تو زندگی، ان کی شہادت نے بھی تاریخ کا رخ بدل دیا، مشرق وسطیٰ میں نئی تاریخ رقم appeared first on شیعہ نیوز پاکستان.


