spot_img

ذات صلة

جمع

صنعا کے بین الاقوامی ہوائی اڈے پر حملے کی مذمت

ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان نے صنعا کے بین...

روسی وزير توانائی کی صدر ایران سے ملاقات

صدرپزشکیان  نے ایران روس سمجھوتوں کی راہ میں حائل...

 یمن کا محاصرہ ختم کرنے کے اقدام پر ایران کی قدردانی

 یمنی حکومت کی مذاکراتی ٹیم کے رکن نے یمن...

آبنائے ہرمز کے بارے میں ٹرمپ کا دعوی

امریکی صدر ٹرمپ نے دعوی کیا ہے کہ امریکا...

لنڈسی گراہم کی موت صیہونی حکومت کے لیے بڑا جھٹکا

شیعہ نیوز: بدنام زمانہ امریکی ری پبلیکن سنیٹر لنڈسی گراہم کی اچانک موت سے تل ابیب کے سیاسی حلقوں میں کھل بلی مچ گئی ہے۔

صیہونی ذرائع ابلاغ نے لنڈسی گراہم کی اچانک موت کو تل ابیب کی لیڈرشپ اور سیاسی سرغنوں کے لیے ایک سنجیدہ جھٹکا قرار دیا اور اس بات کا بھی خدشہ ظاہر کیا کہ مستقبل میں واشنگٹن اور تل ابیب کے تعلقات کا توازن اس موت سے متاثر ہوسکتا ہے۔

صیہونی حکومت کے چینل 12 سے گفتگو کرتے ہوئے صیہونی سیاسی حلقوں نے اعلان کیا کہ نیتن یاہو، اسرائیل نواز سنیٹر گراہم کے دفن میں شرکت کرنے کا جائزہ لے رہے ہیں۔

مذکورہ ذرائع نے ٹرمپ سے نتن یاہو کی ملاقات کی پلاننگ کا بھی ذکر کیا ہے جس سے اس بات کا اندازہ ہوتا ہے کہ صیہونی حکام کے ساتھ لنڈسی گراہم کے کس حد تک ذاتی اور سیاسی سطح کے روابط تھے۔

یہ بھی پڑھیں : لکسمبرگ میں فلسطین کی حمایت پر ایک بوسنیائی ٹیچر برخاست

جبکہ امریکی ذرائع ابلاغ سنیٹر گراہم کے ری پبلیکن پارٹی کی پالیسیوں میں مرکزی کردار پر زور دے رہے تھے، صیہونی ذرائع ابلاغ ہر چیز سے بڑھ کر تل ابیب اور صیہونی حکومت کی جنگ پسندانہ پالیسیوں کی لنڈسی گراہم کی جانب سے حمایت پر مرکوز دکھائی دیے۔

صیہونی حکومت کے چینل 14 نے اس بات پر زور دیا کہ سنیٹر گراہم صرف اسرائیل کے دوست نہیں بلکہ ان امریکی سیاستدانوں میں ان کا شمار تھا جو اسرائیل کے سلسلے میں امریکی پالیسیاں تیار کرتے تھے۔

مذکورہ صیہونی چینل کے مطابق “ٹیلر فورس” نام کے قانونی مسودے کی تیاری میں لنڈسی گراہم کا مرکزی کردار تھا جس کے تحت فلسطینی انتظامیہ کو دی جانے والی مالی امداد روکی گئی۔

ایران کے خلاف گراہم کی شدت پسندانہ اور انتہاپسندانہ پالیسیاں

امریکہ کی جانب سے اسرائیل کو دی جانے والی فوجی امداد اور آئرن ڈوم جیسے دفاعی سسٹم نیز واشنگٹن اور تل ابیب کے درمیان سیکورٹی تعاون میں بھی لنڈسی گراہم کا مرکزی کردار رہا ہے۔

صیہونی چینل I24 نے اتوار کے روز مرنے والے امریکی سنیٹر لنڈسی گراہم کو اسرا‏ئیل کا حقیقی دوست قرار دیا۔

اس چینل کے مطابق سنیٹر گراہم نے کہا تھا کہ مرتے دم تک اسرائیل کا ساتھ دیتا رہوں گا۔

آئی 24 چینل کے مطابق گراہم نے امریکی امداد کم کرنے کی بعض سنیٹروں کی کوششوں کو “بڑی غلطی” قرار دیا تھا۔

لنڈسی گراہم کا شمار ان انتہاپسند سیاستدانوں میں ہوتا تھا جو ایران کے خلاف شدت پسندی کے قائل اور تہران کے خلاف تل ابیب کے موقف کی اندھی حمایت کرتے تھے۔

ایران پر حددرجہ دباؤ، تہران میں سیاسی نظام کا تختہ الٹنا اور ایران کے خلاف فوجی طاقت کا استعمال ان کی روزمرہ کی گفتگو اور موقف کا حصہ تھا اور صیہونی ذرائع ابلاغ کے مطابق لنڈسی گراہم ان سیاستدانوں میں شامل تھے جو ٹرمپ کو تہران کے خلاف مزید سختی برتنے کی تجویز دیا کرتے تھے۔

معاریو اخبار نے لنڈسی گراہم کو امریکی – اسرائیلی تعلقات کا ڈھانچہ تیار کرنے والے اثر و رسوخ کے مالک سیاستدانوں کی قطار کا حصہ قرار دیا۔

قابل ذکر ہے کہ لنڈسی گراہم غزہ کی جنگ کے سلسلے میں بھی اسرائیل کے شدت پسند حامیوں میں دکھائی دیتے تھے اور انہوں نے ہر اس معاہدے کی کھل کر مخالفت کی جس کے تحت غزہ میں حماس کی بقا متصور ہو۔

انہوں نے عالمی فوجداری عدالت کی جانب سے نتن یاہو کو جنگی جرائم کے ارتکاب کے لیے گرفتاری کے حکم کو سنجیدہ خطرہ قرار دیا تھا اور ہیگ عدالت پر پابندی عائد کرنے کا مطالبہ بھی کیا تھا۔

لہذا نیتن یاہو کی سنیٹر لنڈسی گراہم کے دفن میں شرکت کو صرف ایک علامتی اقدام نہیں بلکہ ٹرمپ اور امریکی سیاسی حلقوں سے تعلقات بڑھانے اور گراہم جیسے شخص کی تلاش قرار دینا چاہیے جو امریکی ایوان نمائندگان اور وائٹ ہاؤس میں صیہونی حکومت کی پالیسیوں کو آگے بڑھا سکیں کیونکہ سیاسی امور کے ماہرین کے مطابق لنڈسی گراہم کی موت سے ٹرمپ اور نتن یاہو کی کابینہ ارکان کے مابین ایک سنجیدہ خلفشار پیدا ہوسکتا ہے۔

The post لنڈسی گراہم کی موت صیہونی حکومت کے لیے بڑا جھٹکا appeared first on شیعہ نیوز پاکستان.

​ 

spot_imgspot_img