شیعہ نیوز: ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے ایرانی خبر ایجنسی کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا ہے کہ امریکا سے جنگ اس وقت ختم ہوگی جب ایران کو میدان جنگ میں برتری حاصل ہوگی۔
انہوں نے کہا کہ جنگ کا خاتمہ یا تو مکمل عسکری فتح کے ذریعے ممکن ہے یا پھر مذاکرات کے ذریعے، مذاکرات کا درست وقت وہ ہوتا ہے جب آپ فوجی محاذ پر ٹھوس میدانی اور اسٹریٹجک کامیابیاں حاصل کر چکے ہوں۔
عباس عراقچی نے کا کہ آپ عوام کی زندگیوں اور ملک کے مستقبل کے معاملے میں خطرات مول نہیں لے سکتے، فیصلے درست اور مکمل حساب کتاب کی بنیاد پر کیے جانے چاہیں، سیاسی قیادت کو ہر وقت یہ جائزہ لینا چاہیے کہ جنگ جاری رکھنے سے فائدہ ہوگا یا اس کی قیمت زیادہ بھاری پڑے گی۔
عباس عراقچی نے کا کہ آپ عوام کی زندگیوں اور ملک کے مستقبل کے معاملے میں خطرات مول نہیں لے سکتے، فیصلے درست اور مکمل حساب کتاب کی بنیاد پر کیے جانے چاہیں، سیاسی قیادت کو ہر وقت یہ جائزہ لینا چاہیے کہ جنگ جاری رکھنے سے فائدہ ہوگا یا اس کی قیمت زیادہ بھاری پڑے گی۔
ان کا کہنا تھا کہ کچھ نقصانات کے باوجود اس جنگ میں ایران مؤثر بین الاقوامی طاقت کے طور پر ابھرا اور ایران نےاپنے نظام کی مضبوطی کا مظاہرہ کیا۔
امریکہ نے ایران پر شدید بمباری شروع کردی ہے۔ جواب میں ایرانی رہبر اعظم مجبتی خامنہ ای نے اسلام آباد معاہدے سے دستبرداری کا اعلان کیا ہے جبکہ ایران کی جوابی کاروائی میں خلیجی ریاستوں میں امریکی فوجی اڈوں پر بمباری بھی کی گئی ہے جس میں کم از کم 2 امریکی فوجی مارے گئے ہیں۔
حیران کن بات یہ ہے کہ پاکستان میں لبرل طبقہ اور ریاستی دانشور جنگ میں شدت کا الزام ایران پر لگا رہے ہیں۔ ہم سب کو دکھ ہے کہ جنگ ایک بار پھر شروع ہوگئی اور پاکستان کی سفارتی کوششیں بھی ناکام ہوگئی ہیں۔ لیکن یہ بات حیران کن ہے کہ ہم پس منظر کو سمجھے بغیر مسلسل الزام اپنے ہمسائے ملک پر لگا رہے ہیں جبکہ امریکہ اور اسرائیل کے کردار پر گفتگو ہی نہیں ہو رہی۔
پچھلے تین سال سے غزہ اور لبنان میں اسرائیل اور امریکہ کی طرف سے جاری نسل کشی کے خلاف عملی امداد صرف ایران نے دی ہے جس کی سزا اس کو اقتصادی پابندیوں کے ساتھ ساتھ صہونی و امریکی بمباری کی صورت میں مل رہی ہے۔ مارچ اور اپریل میں اپنے رہبر اعظم کی شہادت کے باوجود جس انداز میں ایران نے امریکی بربریت کا مقابلہ کیا اس نے دنیا کو حیران کردیا۔ امریکہ کے اندر بھی ٹرمپ انتظامیہ پر شدید تنقید ہوئی جس کی بدولت امریکہ اور ایران کے درمیان بزیعہ پاکستان مزاکرات شروع ہوئے۔ جنگ بندی کے دوران ایران نے اقتصادی پابندیوں کے خاتمے کے ساتھ ساتھ یہ شرط رکھی کہ لبنان میں اسرائیلی جارحیت کو روکا جائے۔ امریکہ نے بظاہر یہ مطالبات مان لئے لیکن ایران ابتدا سے ہی یہ خبردار کرہا تھا کہ امریکہ کی کسی بات پر بھی بھروسہ نہیں کیا جاسکتا۔ یاد رہے کہ پچھلے سال جون میں اسرائیلی جارحیت اور اس سال فروری مارچ میں امریکی حملے جس میں 168 سکول کی بچیاں شہید ہوئیں اس وقت کئے گئے جب ابھی دونوں فریقین کے درمیان مزاکرات جاری تھے۔
اس جنگ بندی کے باوجود اسرائیلی نے غزہ میں نسل کشی جاری رکھی جبکہ لبنان میں جنگ میں شدت لے آئے۔ عملی طور پر ایران سے اقتصادی پابندیاں بھی نہ اٹھائی گئیں اور جو 6 ارب ڈالر قطری بینکوں سے ایران کو ملنے تھے وہ بھی روک لئے گئے۔ اس دوران امریکہ نے پچھلے چند ماہ کی جنگ بندی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے خطے میں اپنی عسکری قوت کو بڑھانا شروع کیا اور کویت اور اردن سمیت تمام فوجی اڈوں پر اسلحہ جمع کرلیا۔ اس کے ساتھ ساتھ ٹرمپ روزانہ ٹویٹ کررہا ہے کہ میں ایران کی تہزیب اور اس کا سولین افراسٹرکچر تباہ کردوں گا۔ یہ دونوں بیانات پر عمل در آمد ہو تو وہ نسل کشی کے زمرے میں آتا ہے۔ ان تمام واقعات پر مذمت کرنے کے بجائے خلیجی ریاستوں نے امریکہ کے ساتھ دفاعی تعاون بڑھایا ہے اور اپنے اڈوں پر امریکہ کو ایران کے خلاف مزید اسلحہ اور فوجی اتارنے کی اجازت دی۔ یاد رہے کہ یہ فوجی اڈے ماضی میں مسلم دنیا میں امن و امان کو تباہ کرنے کے لئے مسلسل استعمال ہوتے رہے ہیں۔
ان حالات میں امریکہ نے یہ مطالبہ بھی کردیا ہے کہ ایران آبنائے ہرمز پر اپنے حق سے دستربردار ہوجائے۔ جن لوگوں کو ڈالری جنگوں کی لت پڑ گئی ہے، وہ تو شائد اس بنیادی حق سے پیچھے ہٹ جائیں لیکن جس قوم کو اپنے وجود اور اپنی تہزیب سے محبت ہو، وہ اپنا سب سے اہم کارڈ دشمن کے سامنے کیسے رکھ دے؟ اور وہ بھی ایک ایسے دشمن کے سامنے جو خطے میں درجن کے قریب ممالک کو تباہ کرچکا ہو اور مزاکرات کے دوران سکولوں پر حملہ کرتا ہو۔
امریکہ و اسرائیل ایران کے وجود کو ختم کرکے اس خطے کے بے تاج بادشاہ بننا چاہتے ہیں اور اپنے فوجی اڈوں کے دریعے خطے کے وسائل پر مزید اجارہ داری قائم کرنا چاہتا ہے۔ پھر اس خطے کو روس اور چین کے خلاف بدترین طریقے سے استعمال بھی کیا جائے گا کبھی جہاد اور کبھی جمہوریت کے نام پر پراکسی تیار کرکے خطے میں مسلسل جنگیں بھی کی جائیں گی۔ ایران اور اس کے حمایت یافتہ مزاحمتی گروہ امریکہ و اسرائیل کے اس خوفناک خواب کے آگے دیوار کی مانند کھڑے ہیں۔ یہ لڑائی صرف ایران کی لڑائی نہیں بلکہ اس خطے اور تیسری دنیا کے مستقبل کی لڑائی بن گئی ہے۔
ایران اب اپنے وجود کی لڑائی لڑ رہا ہے۔ پچھلے ہفتے ہم نے تہران میں دیکھا کہ ایرانی عوام کا خوف ختم ہوچلا ہے اور وہ طویل لڑائی کے لئے تیار ہیں۔ اس لڑائی کا انجام ایران اور امریکہ کے درمیان صلح کے نتیجے میں نہیں ہوگا بلکہ خطے میں ایک نئے سکیورٹی زاوئے کے نتیجے میں ہوگا جس کا زکر ایرانی صدر کرچکے ہیں۔ یعنی امریکی اڈوں کا یہاں سے انخلا اور علاقائی قوتوں کے درمیان عسکری اور سکیورٹی معاملات میں تعاون تاکہ 400 سال بعد ہمارے خطے کے فیصلے مغرب میں ہونے کے بجائے ادھر ہی ہوسکیں۔ امریکی فوجی اڈے اس بہتر مستقبل میں سب سے بڑی رکاوٹ ہیں جن پر ایران حملے کرکے بہادری کی نئی تاریخ رقم کررہا ہے۔ تمام سامراج مخالف اور انسان دوست قوتوں کو مغربی لبرل پروپگینڈہ کا شکار ہونے کے بجائے ایرانی مزاحمت کی بھرپور حمایت کرنی چاہئے۔
تحریر : عمار علی جان
The post امریکا سے جنگ اس وقت ختم ہوگی جب ایران کو میدان جنگ میں برتری حاصل ہوگی: عباس عراقچی appeared first on شیعہ نیوز پاکستان.


