spot_img

ذات صلة

جمع

مزاحمتی بلاک بدستور فعال، ایران اور اس کے اتحادیوں نے غیرمعمولی استقامت دکھائی، امریکی جریدہ

شیعہ نیوز: معروف امریکی جریدے فارن افرز نے اپنی تازہ تجزیاتی رپورٹ میں کہا ہے کہ گزشتہ چند برسوں میں خطے میں آنے والی بڑی تبدیلیوں اور شدید فوجی دباؤ کے باوجود محور مقاومت اپنی ساخت اور فعالیت کو برقرار رکھنے میں کامیاب رہا ہے اور متعدد مواقع پر خود کو تیزی سے ازسر نو منظم بھی کیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران اور اس کے اتحادیوں کے خلاف طویل عرصے سے جاری دباؤ، فضائی حملوں اور دیگر اقدامات کے باوجود تہران کی جانب سے جوابی ردعمل جاری رکھنے کی صلاحیت نے بہت سے اسٹریٹجک ماہرین اور تجزیہ کاروں کو حیران کر دیا ہے۔

فارن افرز نے لکھا کہ ایران اور اس کے علاقائی اتحادیوں نے شدید دباؤ کے باوجود نمایاں ثابت قدمی کا مظاہرہ کیا ہے۔ جریدے کے مطابق لبنان میں حزب اللہ اسرائیلی کارروائیوں کے باوجود ایک مؤثر قوت کے طور پر موجود ہے، جبکہ یمن میں بھی بحیرۂ احمر میں کارروائیاں دوبارہ شروع ہونے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں : میناب حملے کی وجہ سے ٹرمپ کو زور دار تھپڑ مارنے کو دل چاہتا ہے، امریکی تجزیہ کار

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ایران اور اس کے اتحادیوں کی یہ پائیداری اس سوچ کے لیے ایک چیلنج ہے جس کی بنیاد پر امریکہ اور اسرائیل نے اپنی حکمتِ عملی ترتیب دی تھی۔ اس نظریے کے مطابق اقتصادی پابندیوں، فوجی دباؤ، عسکری تنصیبات، قیادت اور سپلائی نیٹ ورکس کو نشانہ بنا کر ایران اور اس کے اتحادیوں کو فیصلہ کن نقصان پہنچایا جا سکتا تھا، تاہم عملی طور پر نتائج توقعات کے مطابق سامنے نہیں آئے۔

فارن افرز کے مطابق دو دہائیاں قبل شاید ایسی حکمت عملی زیادہ مؤثر ثابت ہو سکتی تھی، کیونکہ اُس وقت ایران اور اس کے اتحادیوں کے درمیان روابط نسبتاً محدود اور مرکزی نوعیت کے تھے۔ تاہم وقت کے ساتھ یہ ڈھانچہ ایک پیچیدہ، باہم مربوط اور کثیرالجہتی نیٹ ورک میں تبدیل ہو چکا ہے۔

جریدے نے تجزیہ کرتے ہوئے لکھا کہ اس نیٹ ورک میں معلومات، وسائل، تکنیکی مہارت اور فیصلہ سازی کے عمل کو مختلف مقامات پر تقسیم کیا جا سکتا ہے، جس کے باعث کسی ایک مرکز یا قیادت کو نشانہ بنانے سے پورا نظام مفلوج نہیں ہوتا۔

رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ جب کسی رہنما، عسکری مرکز یا سپلائی لائن کو نقصان پہنچتا ہے تو متعلقہ گروہ نسبتاً تیزی کے ساتھ خود کو نئی صورت حال کے مطابق ڈھال لیتے ہیں، متبادل قیادت سامنے آ جاتی ہے، تکنیکی خلا پر کر لیا جاتا ہے اور نئے راستوں کے ذریعے رابطوں اور رسد کے نظام کو بحال کر لیا جاتا ہے۔

فارن افرز نے نتیجہ اخذ کیا کہ غزہ جنگ کے دوران حماس اور حزب اللہ کے خلاف اسرائیلی کارروائیوں، شام میں سیاسی تبدیلیوں اور ایران کے خلاف وسیع فضائی حملوں کے باوجود محورِ مقاومت مجموعی طور پر اپنی بنیادی ساخت اور اثرورسوخ برقرار رکھنے میں کامیاب رہا ہے، جو اس نیٹ ورک کی لچک اور تنظیمی صلاحیت کی عکاسی کرتا ہے۔

The post مزاحمتی بلاک بدستور فعال، ایران اور اس کے اتحادیوں نے غیرمعمولی استقامت دکھائی، امریکی جریدہ appeared first on شیعہ نیوز پاکستان.

​ 

spot_imgspot_img