شیعہ نیوز: اسرائیلی جائزہ رپورٹس کے مطابق ایران نے توقع سے کہیں کم وقت میں اپنے بیلسٹک میزائل پروگرام کی بڑی صلاحیت بحال کر لی ہے، جس سے صہیونی سکیورٹی حلقوں میں تشویش بڑھ گئی ہے۔
رپورٹ کے مطابق ایران کی میزائل صلاحیت کی تیز رفتار بحالی، بالخصوص بیلسٹک میزائلوں کے شعبے میں، صہیونی سکیورٹی حلقوں کے لیے تشویش کا باعث بن گئی ہے۔
تفصیلات کے مطابق اسرائیلی اخبار یروشلم پوسٹ نے اسرائیلی سکیورٹی ذرائع کے حوالے سے رپورٹ دی ہے کہ ایران اپنی فوجی صلاحیت، خصوصاً بیلسٹک میزائلوں کے ذخیرے کو توقع سے کہیں زیادہ تیزی سے دوبارہ بحال کر رہا ہے۔ نئے جائزوں کے مطابق ایران نے سابقہ اندازوں کے برعکس اپنی میزائل صلاحیت کا ایک بڑا حصہ بہت کم مدت میں دوبارہ حاصل کر لیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں : روسی صدر کا متنازعہ جزائر کوریل کا تاریخی دورہ، جاپان کا شدید احتجاج
یروشلم پوسٹ کے مطابق ایران کے پاس موجود بیلسٹک میزائلوں کی تعداد جون 2025 میں تقریباً 1,300 تھی، جو فروری 2026 تک بڑھ کر تقریباً 2,500 تک پہنچ گئی۔
رپورٹ میں مزید دعوی کیا گیا ہے کہ ایران ہر ماہ تقریباً 100 سے 300 بیلسٹک میزائل تیار کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اگر یہی رفتار برقرار رہی تو اسرائیلی اندازوں کے مطابق ایران 2027 کے آغاز یا وسط تک اپنے میزائل ذخیرے کو جون 2025 کی سطح تک دوبارہ پہنچانے میں کامیاب ہو سکتا ہے۔
اسرائیلی فوج اس سے قبل دعوی کرچکی ہے کہ اس نے ایران کی فوجی صلاحیت کے مختلف حصوں کو نمایاں نقصان پہنچایا ہے، تاہم تازہ جائزے اس دعوے کے باوجود ایران کی تیز رفتار بحالی کی جانب اشارہ کرتے ہیں۔
ایران کی جانب سے میزائلوں کی مبینہ تیز رفتار تیاری اور ذخائر میں اضافے نے اسرائیلی سکیورٹی اداروں کے سامنے یہ سوال کھڑا کر دیا ہے کہ فوجی کارروائیوں کے ذریعے ایران کی میزائل صلاحیت کو مستقل طور پر محدود کرنا کس حد تک ممکن ہے۔
The post ایران کی تیزی سے بحال ہوتی میزائل طاقت، اسرائیل میں تشویش appeared first on شیعہ نیوز پاکستان.


