شیعہ نیوز: امریکی اخبار کے مطابق یمن کی انصاراللہ اپنی بحری صلاحیتوں اور جغرافیائی پوزیشن کے باعث علاقائی اور عالمی سطح پر ایک مؤثر فریق بن چکی ہے۔
رپورٹ کے مطابق امریکی اخبار نیویارک ٹائمز نے ایک تجزیاتی رپورٹ میں خبردار کیا ہے کہ یمن کی تحریک انصاراللہ کو محض ایران کی ایک اتحادی قوت یا نمائندہ گروہ سمجھنا درست نہیں، کیونکہ اس کی صلاحیتیں اور بحیرہ احمر میں اس کی اسٹریٹجک پوزیشن اسے علاقائی اور بین الاقوامی سطح پر ایک اہم کردار بنا چکی ہے۔
اخبار میں الیگزینڈرا اسٹارک کے قلم سے شائع ہونے والے تجزیے میں کہا گیا ہے کہ چند سال پہلے تک انصاراللہ کو مزاحمتی محاذ میں ایک ثانوی یا تیسرے درجے کی قوت سمجھا جاتا تھا، جس کی وجہ سے امریکی پالیسی ساز بھی اسے تہران کے تابع گروہ کے طور پر دیکھتے تھے۔
رپورٹ کے مطابق اگرچہ انصاراللہ نے ایران سے ہتھیار، تربیت اور تجربات حاصل کیے ہیں، تاہم اس کے اپنے مخصوص مفادات ہیں اور وہ انہی مفادات کو مدنظر رکھتے ہوئے فیصلے کرتی ہے۔
تجزیے میں کہا گیا ہے کہ یمن کی موجودہ صورتحال اور حالیہ علاقائی پیش رفت اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ انصاراللہ اب ایسی قوت بن چکی ہے جسے علاقائی اور عالمی تنازعات، جنگ اور امن کے معاملات میں نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔
یہ بھی پڑھیں : ترکی نے نتن یاہو کے خلاف انٹرپول ریڈ نوٹس کی درخواست دے دی
نیویارک ٹائمز نے انصاراللہ کی سب سے اہم صلاحیتوں میں یمن کے جغرافیائی اور بحری محل وقوع کو قرار دیا ہے، جسے وہ ایک اسٹریٹجک ہتھیار کے طور پر استعمال کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔
اخبار کے مطابق انصاراللہ کا اثر اب صرف یمن تک محدود نہیں بلکہ عالمی بحری تجارت اور خطے کی سلامتی تک پھیل چکا ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ انصاراللہ کی ایک نمایاں حکمت عملی یہ ہے کہ وہ کشیدگی میں اضافے کے وقت کا انتخاب اپنے اہداف اور مذاکراتی پوزیشن کو مضبوط بنانے کے لیے کرتی ہے۔
نیویارک ٹائمز کے مطابق اگرچہ بعض حلقے یہ تصور کرتے ہیں کہ یمن کی کارروائیاں ایران کے حکم پر ہوتی ہیں، تاہم حقیقت زیادہ پیچیدہ ہے۔
انصاراللہ اپنے مفادات کو سامنے رکھتے ہوئے عملی فیصلے کرتی ہے اور عالمی سطح پر ایک خودمختار فریق کے طور پر رویہ اختیار کرتی ہے۔
تجزیے میں کہا گیا ہے کہ انصاراللہ بحیرہ احمر کے اہم بحری راستے باب المندب کو متاثر کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔
باب المندب ایک اہم سمندری گزرگاہ ہے جہاں سے دنیا کی تقریباً 12 سے 15 فیصد بحری تجارت گزرتی ہے، جبکہ دوسری جانب نہر سوئز بھی تیل، گیس اور تجارتی سامان کی ترسیل کے لیے انتہائی اہم راستہ ہے۔
رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ غزہ جنگ کے دوران انصاراللہ نے بحیرہ احمر میں اسرائیلی جہازوں کو نشانہ بنا کر اپنی صلاحیتوں کا مظاہرہ کیا۔
ڈرونز، میزائلوں اور بغیر پائلٹ کشتیوں جیسے کم لاگت ہتھیاروں کے استعمال سے تجارتی جہاز رانی متاثر ہوئی، انشورنس اخراجات میں نمایاں اضافہ ہوا اور کئی جہازوں کو افریقہ کے گرد طویل راستہ اختیار کرنا پڑا۔
الیگزینڈرا اسٹارک کے مطابق اگر باب المندب اور آبنائے ہرمز جیسے اہم راستے متاثر ہوتے ہیں تو عالمی تجارت، تیل کی قیمتوں اور مہنگائی پر گہرے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
نیویارک ٹائمز نے خبردار کیا کہ انصاراللہ کو ایک غیر خودمختار گروہ سمجھنا پالیسی سازی میں غلط اندازوں کا باعث بن سکتا ہے۔
خطے میں کشیدگی کم کرنے کے لیے ضروری ہے کہ انصاراللہ کو یمن اور مشرق وسطیٰ کے معاملات میں ایک مؤثر فریق کے طور پر تسلیم کرتے ہوئے اس کے ساتھ معاملات کیے جائیں۔
The post انصاراللہ کو کبھی کمزور نہ سمجھیں، نیویارک ٹائمز appeared first on شیعہ نیوز پاکستان.


