شیعہ نیوز: اسلامی مزاحمتی تحریک حماس نے زور دے کر کہا ہے کہ منگل کی صبح قابض صہیونی فوج کے خصوصی دستوں کی طرف سے شہرغزہ کے مغربی علاقے الکتیبہ میں کی جانے والی کارروائی ایک سنگین جرم، شہریوں کی زندگیوں سے کھلا کھلواڑ اور غزہ کی پٹی میں فلسطینی عوام کے خلاف جنگی نسل کشی کا تسلسل ہے۔
حماس نے اپنے جاری کردہ پریس بیان میں جو مرکز اطلاعات فلسطین کو موصول ہوا واضح کیا کہ یہ کارروائی آبادی اور بے گھر افراد سے بھرے ہوئے علاقے میں کی گئی اور اس کے ساتھ ہی گھسنے والے دستوں کو کور فراہم کرنے اور ان کی واپسی کو یقینی بنانے کے لیے شدید فائرنگ اور فضائی حملے کیے گئے جس کے نتیجے میں کئی شہری شہید اور زخمی ہو گئے۔
یہ بھی پڑھیں : چین کے صدر شی جن پنگ اچانک مصر پہنچ گئے
حماس نے کہا کہ قابض حکومت کی طرف سے جنگ بندی کے معاہدے کی مجرمانہ خلاف ورزیوں میں تیزی، شہریوں کو مسلسل نشانہ بنانا، ناکہ بندی کو سخت کرنا اور پٹی میں انسانی المیے کو گہرا کرنا اس چیلنج اور تکبر کی پالیسی کی تصدیق کرتا ہے جو قابض حکومت کے سربراہ بنجمن نتنياهو کی طرف سے ثالث ملکوں اور ان کے کردار کے خلاف اپنائی جا رہی ہے نیز بین الاقوامی قانون اور بین الاقوامی انسانی قانون کی دھجیاں اڑائی جا رہی ہیں۔
جماعت نے امریکی انتظامیہ اور ثالث ملکوں کو دعوت دی کہ وہ شہریوں کے خلاف قابض کے جرائم پر واضح موقف اختیار کریں اور ان کی مذمت کریں، غزہ کی پٹی میں جاری خلاف ورزیوں کو روکنے کے لیے فوری طور پر حرکت میں آئیں اور قابض حکومت کو جنگ بندی کے معاہدے کے تقاضوں کو نافذ کرنے کا پابند بنائیں۔
حماس نے بین الاقوامی برادری اور اس کے اداروں بالخصوص اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سے مطالبہ کیا کہ وہ غزہ کی پٹی میں شہریوں کے خلاف قابض حکومت کے جرائم کو روکنے کے لیے فوری اقدامات کریں اور اس کے ذمہ داروں کو بین الاقوامی عدالتی اداروں کے سامنے جوابدہ بنانے کے لیے کام کریں۔
The post اسرائیلی فوج کی مغربی غزہ میں خصوصی کارروائی ایک جنگی جرم اور جنگ بندی کی سنگین خلاف ورزی ہے، حماس appeared first on شیعہ نیوز پاکستان.


