شیعہ نیوز: پاکستان میں انسدادِ دہشت گردی کی مسلسل کارروائیوں کے باوجود اگست کے دوران شدت پسند حملوں میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا، تاہم ان حملوں کے نتیجے میں ہلاکتوں اور زخمیوں کی تعداد جولائی کے مقابلے میں کم رہی۔
اسلام آباد میں قائم تھنک ٹینک پاکستان انسٹی ٹیوٹ فار کانفلکٹ اینڈ سیکیورٹی اسٹڈیز (PICSS) کے ماہانہ اعداد و شمار کے مطابق اگست میں ملک بھر میں 199 شدت پسند حملے ریکارڈ کیے گئے، جبکہ جولائی میں یہ تعداد 144 تھی، یوں حملوں میں 38 فیصد اضافہ ہوا۔
رپورٹ کے مطابق اگست میں شدت پسند حملوں کے نتیجے میں 158 افراد جاں بحق اور 181 زخمی ہوئے، جبکہ جولائی میں 268 افراد جاں بحق اور 216 زخمی ہوئے تھے۔ اس طرح ہلاکتوں میں 41 فیصد جبکہ زخمیوں کی تعداد میں 16 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔
اگست کے دوران سیکیورٹی فورسز کی انسدادِ دہشت گردی کارروائیوں میں 211 افراد ہلاک ہوئے، جن میں 203 شدت پسند شامل تھے۔ کارروائیوں کے دوران 21 شدت پسند زخمی جبکہ 26 گرفتار کیے گئے۔
یہ بھی پڑھیں : ایران اپنے مفادات اور آزادی کی لڑائی لڑ رہا ہے اور یہ دیکھ کر خوشی ہے: روسی صدر
اعداد و شمار کے مطابق بلوچستان میں سیکیورٹی فورسز نے 115 شدت پسند، خیبر پختونخوا کے مرکزی علاقوں میں 56 جبکہ ضم شدہ اضلاع میں 32 شدت پسندوں کو ہلاک کیا۔
رپورٹ کے مطابق اگست میں 3 خودکش حملے ہوئے، جن میں 2 گاڑیوں کے ذریعے کیے گئے حملے شامل تھے۔ جولائی میں 8 خودکش حملے ریکارڈ کیے گئے تھے، جن میں 5 گاڑیوں کے ذریعے کیے گئے خودکش حملے شامل تھے۔
دوسری جانب اغوا کے واقعات میں بھی کمی دیکھی گئی۔ اگست میں اغوا کے 42 واقعات رپورٹ ہوئے جبکہ جولائی میں یہ تعداد 66 تھی، یوں اغوا کے واقعات میں 36 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔
بلوچستان سب سے زیادہ متاثرہ صوبہ رہا۔ PICSS کے مطابق بلوچستان میں شدت پسند حملوں کی تعداد جولائی کے 83 سے بڑھ کر اگست میں 89 ہوگئی، تاہم حملوں میں ہلاکتیں 162 سے کم ہو کر 76 جبکہ زخمیوں کی تعداد 86 سے کم ہو کر 47 رہ گئی۔
خیبر پختونخوا کے مرکزی علاقوں میں بھی شدت پسند حملوں میں اضافہ ہوا، جہاں ضم شدہ اضلاع کو نکال کر اگست میں 54 حملے ریکارڈ کیے گئے جبکہ جولائی میں یہ تعداد 36 تھی۔
The post دہشت گردوں کے خلاف مسلسل کارروائیوں کے باوجود شدت پسند حملوں میں 38 فیصد اضافہ appeared first on شیعہ نیوز پاکستان.


