spot_img

ذات صلة

جمع

امن کونسل کے سامنے غزہ کا امتحان، حماس کا نسل کشی روکنے کے لیے عملی اقدامات کا مطالبہ

شیعہ نیوز: اسلامی مزاحمتی تحریک حماس نے اس بات پر زور دیا ہے کہ قابض اسرائیل کی طرف سے غزہ پٹی میں نقل مکانی کرنے والے کیمپوں سے متصل باقی ماندہ گھروں اور عمارتوں کی تخریب کاری کا سلسلہ جاری رکھنا اس امر کا واضح ثبوت ہے کہ وہ پٹی کے باشندوں کے خلاف نسل کشی کی جنگ کے تمام حربے جاری رکھے ہوئے ہے جبکہ اس کے ساتھ ساتھ بیانات اور اعلانات سے آگے بڑھ کر عملی مؤقف اپنانے کے مطالبات بھی شدت اختیار کر رہے ہیں۔

جماعت کے ترجمان حازم قاسم نے ایک بیان میں کہا کہ قابض دشمن نام نہاد امن کونسل کی خاموشی کے ساتھ ساتھ ثالثوں کی کمزوری اور بے بسی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنی جارحیت میں شدت پیدا کر رہا ہے جبکہ عرب اور اسلامی نظام بھی قابض دشمن کے جرائم کو رکوانے کے لیے کوئی حقیقی قدم اٹھانے سے قاصر ہے۔

حازم قاسم نے تمام فریقوں پر زور دیا کہ وہ حقیقی مؤقف اختیار کرتے ہوئے میڈیا کے بیانات کے دائرے سے باہر نکلیں اور عملی اقدامات کریں انہوں نے خبردار کیا کہ خاموشی کا یہ تسلسل قابض دشمن کو اس بات کا موقع فراہم کرے گا کہ وہ غزہ پٹی کے باشندوں کے خلاف اپنی جنگ جاری رکھے تاکہ ان کا انخلا عمل میں لایا جا سکے۔

یہ بھی پڑھیں : ایران کے خلاف جنگ کے اہداف کیوں پورے نہ ہوسکے؟ امریکہ میں واشنگٹن کی دفاعی طاقت پر سوالات اٹھنے لگے

قابض اسرائیل کے جنگی طیاروں نے منگل کے روز غزہ پٹی میں شہریوں کے گھروں اور اجتماعات کو نشانہ بناتے ہوئے بمباری کا ایک ایسا سلسلہ شروع کیا جس کے نتیجے میں متعدد شہری شہید اور دیگر زخمی ہو گئے جبکہ اس دوران پٹی میں اسرائیلی جارحیت کا تسلسل اور انسانی صورتحال کی ابتری مسلسل جاری ہے۔

اس سے قبل ترجمان حازم قاسم نے امن کونسل کے نمائندے نکولے ملادی نوف کے اس بیان کی شدید مذمت کی تھی جس میں انہوں نے اس بات کی تصدیق کی تھی کہ غزہ پٹی میں تعمیر نو کے عمل کے آغاز سے ابھی بہت دور کا راستہ طے کرنا باقی ہے اور اس مؤقف کو کونسل کے ذمے لگائے گئے بنیادی کردار سے چشم پوشی کے مترادف قرار دیا تھا۔

حازم قاسم نے نکولے ملادی نوف سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنا کردار ادا کریں اور قابض اسرائیل پر دباؤ ڈالیں تاکہ اسے طے پانے والے معاہدات کی پابندی پر مجبور کیا جا سکے اور جنگ بندی کے معاہدے کی مسلسل خلاف ورزیوں کا راستہ روکا جا سکے۔

انہوں نے امن کونسل کے نمائندے کو اس بات پر بھی ابھارا کہ وہ جنگ کے خاتمے کے لیے فلسطینی دھڑوں اور نکولے ملادی نوف کے درمیان امریکی انتظامیہ کے تعاون سے طے پانے والے روڈ میپ کو نافذ کرنے کے لیے بھرپور جدوجہد کرے جبکہ انہوں نے قابض حکومت کی طرف سے اس کے نفاذ سے انکار کا بھی ذکر کیا۔

مبصرین کا یہ ماننا ہے کہ امن کونسل کو ایک ایسے کڑے امتحان کا سامنا ہے جو بیانات اور اعلانات کی حدود سے بہت آگے ہے کیونکہ جس کونسل کی تشکیل ڈونلڈ ٹرمپ کے غزہ سے متعلق منصوبے کے تحت عمل میں آئی تھی اس سے یہ توقع کی جا رہی تھی کہ وہ جنگ بندی کو پائیدار بنانے اور عبوری مرحلے کی نگرانی کرنے کے ساتھ ساتھ تعمیر نو میں مدد فراہم کرے گی اور اس کے علاوہ پٹی کے مستقبل سے جڑے ہوئے سکیورٹی اور سیاسی انتظامات میں بھی اپنا بھرپور کردار ادا کرے گی۔

اسی فریم ورک کے تحت سکیورٹی اور عبوری انتظامات کے نفاذ میں مدد کے لیے ایک بین الاقوامی استحکام فورس بھی تشکیل دی گئی تھی جبکہ اس کے باوجود رہائشی مکانات، بنیادی ڈھانچے اور بنیادی خدمات کو پہنچنے والی وسیع تر تباہی کی وجہ سے غزہ پٹی آج بھی ایک گہرے بحران کی لپیٹ میں ہے۔

خدمات کی بحالی، امداد کی ترسیل، تعمیراتی سامان کے داخلے کے لیے راہ ہموار کرنا اور تعمیر نو کا آغاز کرنا جنگ بندی کے مرحلے سے لے کر بحالی کے عمل تک منتقلی کے لیے بنیادی عناصر کی حیثیت رکھتے ہیں جبکہ اس نازک وقت میں یہ سوالات مسلسل سر اٹھا رہے ہیں کہ آیا امن کونسل خاموشی اور بیانات کے اس دائرے سے باہر نکل کر عملی اقدامات کرے گی جو قابض دشمن کے سفاکانہ قتل عام کو روکیں اور غزہ کے باقی ماندہ حصے کو بچانے کی راہ ہموار کریں۔

The post امن کونسل کے سامنے غزہ کا امتحان، حماس کا نسل کشی روکنے کے لیے عملی اقدامات کا مطالبہ appeared first on شیعہ نیوز پاکستان.

​ 

spot_imgspot_img