شیعہ نیوز: مجلس علماء مکتب اہل بیت پاکستان کے مرکزی صدر حجت الاسلام والمسلمین سید حسنین عباس گردیزی نے یمن کی موجودہ صورتحال اور 2015ء سے جاری اس کے معاشی و جغرافیائی محاصرے پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ کسی بھی آزاد اور خودمختار ملک کی قیادت کا اپنے ملک کے بجائے غیر ملکی دارالحکومت میں بیٹھ کر نظام حکومت چلانا اس قوم کی آزادی اور خودمختاری پر ایک سوالیہ نشان ہے۔ یمن کے عوام کو یہ پورا حق حاصل ہونا چاہیے کہ وہ اپنی مرضی و منشا سے اپنے ملک کا صدر، وزیراعظم اور قیادت منتخب کریں۔
انہوں نے کہا کہ اسلام ہمیں دو مسلمان بھائیوں کے درمیان صلح و صفائی کا حکم دیتا ہے۔ قرآنِ کریم کی تعلیمات کے مطابق جب دو مسلمان فریقین میں نزاع ہو تو ان کے درمیان عدل کے ساتھ صلح کرائی جائے، نہ کہ کسی ایک فریق کا ساتھ دے کر جنگ کو ہوا دی جائے۔
یہ بھی پڑھیں : بغداد کو ایران کی فضائی ناکہ بندی میں شریک نہیں ہونا چاہیے، عراقی سیاسی جماعت کا مطالبہ
حکومتِ پاکستان اور مسلح افواج سے اپیل کرتے ہوئے انہوں نے زور دیا کہ پاکستان اس تنازع میں مکمل طور پر غیر جانبدار رہے اور اپنی افواج کو کسی بھی صورت یمن کے مظلوم عوام کے خلاف استعمال نہ ہونے دے۔ پاکستان کو بین الاقوامی سیاست اور بالخصوص امریکہ اور ایران کے درمیان ثالثی کا بہترین تجربہ حاصل ہے۔ لہٰذا، پاکستان کو چاہیے کہ وہ خطے میں اپنا باوقار اور غیر جانبدارانہ کردار بحال رکھتے ہوئے فریق بننے کے بجائے یمن اور سعودی عرب کے درمیان مصالحت اور ثالثی کا فعال کردار ادا کرے۔
انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان کی ایک عالمی حیثیت اور وقار ہے، اسے کسی تنازع میں فریق بنا کر متنازع نہ بنایا جائے۔ پاکستان کو ظالم کا دستِ راست بننے کے بجائے مظلوم کے حقوق کا احترام کرتے ہوئے امتِ مسلمہ میں اتحاد اور امن کے قیام کے لیے آگے بڑھنا چاہیے۔
The post یمن میں سعودی مداخلت پر تشویش، حکومت پاکستان سے دوطرفہ تنازع میں غیر جانبدارانہ ثالثی کا مطالبہ appeared first on شیعہ نیوز پاکستان.


