تخت فولاد جسکا تاریخی نام لسان الارد اور بابا رکن الدین ہے، چوتھی صدی ہجری سے تعلق رکھنے والا صرف ایک قبرستان نہیں بلکہ اسے ایران میں اسلامی نوشتہ جات اور فن تعمیر کا سب سے بڑا مجموعہ قرار دیا جاتا ہے۔ دریائے زائندہ کے جنوبی کنارے، تقریباً 75 ہیکٹر کے رقبے پر مشتمل یہ مجموعہ مختلف ادوار میں فن تعمیر کی رونق اور ترقی کی گواہی دیتا ہے۔
اس قبرستان کے پتھروں پر کندہ تحریریں نہ صرف اس علاقے کی مذہبی اور صوفیانہ تاریخ بیان کرتی ہیں بلکہ فن اور تاریخ کے محققین کے لیے ایک قیمتی دستاویز بھی ہیں۔یہ تاریخی مقام جو اصفہان کے شمال جنوب سیکٹر کے سرے پر واقع ہے، فن و ہنر اور نوشتہ جات کے نادر نمونوں کی وجہ سے محققین کی توجہ کا مرکز رہا ہے۔


