spot_img

ذات صلة

جمع

جنرل رضایی: حقیقت کو ایران اپنے عوام، سپاہیوں اور میزائلوں کی مدد سے رقم کرتا ہے

اسلامی جمہوریہ ایران کی قومی سلاتمی کونسل کے سیکریٹری...

آبنائے ہرمز میں ایک آئل ٹینکر پر حملہ

برطانوی سمندری تجارت کی سیکوریٹی کمپنی UKMTOنے جمعہ...

غریب آبادی: امریکا اور اسرائیل کے جرائم پر خاموشی جرم میں شمولیت ہے

اسلامی جمہوریہ ایران کی وزارت خارجہ کے قانونی اور...

مولانا اللہ وسایا کی 12 جلدوں پر مشتمل معرکۃ الآراء کتاب احتساب ناصبیت کی اشاعت، تکفیری و ناصبی آگ بگولا

شیعہ نیوز: مکتبِ دیوبند سے تعلق رکھنے والےصاحب نظر اور جید عالم دین مولانا اللہ وسایا صاحب کہ جن کی ختم نبوت کے حوالے سے بھی بہت زیادہ خدمات ہیں ان دنوں تکفیریوں اور ناصبیوں کے ہاں شدید تنقید کی زد میں ہیں فقط تنقید کی زد میں نہیں انہیں،، گستاخ صحابہ،، قرار دیا جا رہا ہے یعنی،، گستاخ گستاخ ،، والے معاملے نے دیوبند کے بزرگ علماء کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے،معاملہ یہ ہے کہ انہوں نےاسلام میں ناصبیت کےرد پر 12جلدوں پہ مشتمل کتاب تالیف کی ہے جس کا نام احتساب ناصبیت ہے۔

​جہاں آلِ محمدؑ کی عظمت اور مناقب کی بات آتی ہے، وہاں یہ تصویر خود ایک روشن تاریخ اور زندہ حقیقت کی گواہ ہے کہ سید سلیمان ندویؒ اور مولانا اسحاق مدنیؒ جیسے عظیم اہل سنت اکابرین کا جو علمی کام باقی رہ گیا تھا، اللہ پاک نے وہ عظیم خدمت مولانا اللہ وسایا صاحب کے مبارک ہاتھوں سے مکمل کروا کر 12 عظیم الشان جلدوں کی صورت میں امت کے سامنے پیش کر دی ہے۔

سبحان اللہ !اگر آپ غور کریں تو یہ عظیم علمی کاوش کسی معجزے سے کم نہیں! آلِ رسولؑ کی محبت اور دینِ اسلام کی پاسداری کا یہ پیغام ہر سچے عاشقِ رسولؐ کے دل کو چھو لینے والا ہے۔

یہ بھی پڑھیں : مسجد الحرام سے خودکش بمبار کی گرفتاری کی اطلاعات کی تردید، خوف و ہراس پھیلانے والا شخص گرفتار

الله وسایا صاحب کی مرتب کردہ “ احتساب ناصبیت “ کی اشاعت کے بعد اٹھنے والے طوفانِ بدتمیزی نے یہ بات ایک دفعہ پھر ثابت کر دی ہے کہ یہ معاشرہ اخلاقیات کی انتہائی پستی میں گر چکا ہے، اور سب سے زیادہ پستی میں وہ گرے ہیں جو اپنے آپ کو بزعم خود اہل علم گردانتے ہیں،یہی کچھ اس سے قبل زاہد الراشدی صاحب کے معاملے میں دیکھنے کو ملا۔

اچھا نام کے ساتھ اپنے تئیں علامہ، مفتی اور تو اور خود ہی مولانا بھی لکھ رکھا ہے لیکن زبان اتنی غلیظ کہ پناہ بہ خدا۔اور اعتراضات اتنے بودے اور سطحی کہ حد ہی ہے۔طلقاء کو طلقاء نہ لکھا جائے گا تو کیا ان کی آزاد کردہ غلاموں کی حیثیت ختم ہو جائے گی،خاطی کو خاطی نہ کہیں تو کیا ان کی خطا ختم ہو جائے گی،باغی کو باغی نہ لکھیں تو کیا ان کی بغاوت پر پردہ پڑ جائے گا۔

الله تعالیٰ ان کی قبروں کو نور سے بھر دے جنہوں نے ناصبیت کا پردہ چاک کرنے میں اپنا حصہ ڈالا۔اور الله وسایا صاحب کو صحت والی زندگی عطا کرے تاکہ وہ ناصبیت کے ایوانوں میں اس طرح زلزلے برپا کرتے رہیں۔

The post مولانا اللہ وسایا کی 12 جلدوں پر مشتمل معرکۃ الآراء کتاب احتساب ناصبیت کی اشاعت، تکفیری و ناصبی آگ بگولا appeared first on شیعہ نیوز پاکستان.

​ 

spot_imgspot_img