حوزہ/ایران کو ’’مجوسی‘‘ کہنے والوں کو سب سے پہلے تاریخ پڑھنی چاہیے، کیونکہ کسی قوم کو اس کے صدیوں پرانے مذہبی پس منظر کی بنیاد پر آج بھی اسی نام سے پکارنا نہ علم ہے، نہ تحقیق اور نہ انصاف۔ اگر تاریخ کو تعصب کے بجائے حقیقت کی نظر سے دیکھا جائے تو معلوم ہوگا کہ فارس اور وسیع ایرانی و خراسانی تہذیبی خطہ اسلام کی تاریخ میں صرف ایک جغرافیائی نام نہیں بلکہ علم، تہذیب، فکر اور دینی خدمات کا ایک عظیم مرکز رہا ہے۔


