شیعہ نیوز: انصار اللہ کے سیاسی دفتر کے رکن نے کہا ہے کہ سعودی عرب کی جانب سے یمن کے خلاف جارحیت کا مقصد امریکی مفادات کا تحفظ ہے۔
رپورٹ کے مطابق یمن کی انصار اللہ تحریک کے سیاسی دفتر کے رکن محمد البخیتی نے کہا کہ انصار اللہ نے کئی بار مذاکرات کا مطالبہ کیا، لیکن بالآخر تعز کی صورتحال دھماکہ خیز رخ اختیار کر گئی۔
البخیتی نے مزید کہا کہ یمن کی مسلح افواج تعز کو بہت اہمیت دیتی ہیں اور اس علاقے کے عوام سے مطالبہ کرتی ہیں کہ وہ مغربی ساحل میں پیش آنے والے واقعات کو یاد رکھیں۔
انہوں نے کہا کہ سعودی عرب کی جانب سے یمن کے خلاف کی جانے والی جارحیت دراصل امریکی جارحیت ہے اور یہ واشنگٹن کے مفادات اور خواہشات کے مطابق ہے۔
یمنی رہنما نے مزید کہا کہ ہم نے متحدہ عرب امارات کو کئی بار مشورہ دیا ہے کہ وہ غیر جانب داری برقرار رکھے اور یمن کے تنازع میں شامل نہ ہو۔
یہ بھی پڑھیں : ایٹمی ٹیکنالوجی ایران کا تسلیم شدہ حق ہے،روس
البخیتی نے خبردار کیا کہ صہیونی حکومت مسلسل عرب حکومتوں کو یمن کے خلاف متحد کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔
انہوں نے ریاض کے اس دعوے کی تردید کی کہ یمن کی مسلح افواج اسلامی مقدسات کو نشانہ بنا رہی ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ صنعاء ان مقدسات کے تحفظ پر زور دیتا ہے اور انہیں نشانہ بنانے میں اس کا کوئی مفاد نہیں ہے۔
محمد البخیتی نے مزید کہا کہ عمان کی ثالثی کے علاوہ یمن کے حوالے سے حالیہ تمام ثالثی کی کوششیں مخلصانہ نہیں ہیں۔
سعودیوں کا جنگ جاری رکھنے پر اصرار ناقابل قبول ہے اور ریاض یمن میں مذاکرات کی راہ میں رکاوٹ ہے۔
The post امریکی مفادات کی تکمیل کے لیے سعودی عرب یمن پر جارحیت کررہا ہے، البخیتی appeared first on شیعہ نیوز پاکستان.


