شیعہ نیوز: ترک حکام کے مطابق انقرہ، سعودی عرب اور پاکستان کے درمیان مشترکہ دفاعی معاہدے کے تحت یمن کی انصار اللہ کے مقابلے میں سعودی عرب کی مدد کے لیے دفاعی اور فنی معاونت فراہم کرے گا۔
رپورٹ کے مطابق ترک حکام نے بتایا کہ ترکیہ یمن کی انصار اللہ کے مقابلے میں سعودی عرب کی مدد کے لیے بنیادی طور پر دفاعی اور فنی معاونت فراہم کرے گا۔
ایک ترک عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر میڈیا کو بتایا کہ ترکیہ کی متوقع معاونت فوجی سازوسامان، انٹیلی جنس معلومات کے تبادلے اور ہتھیاروں کے نظام تک محدود ہوگی اور اب تک اس اتحاد کے تحت کسی اور نوعیت کی فوجی تعیناتی نہیں کی گئی۔
یہ بھی پڑھیں : برطانیہ کی اسرائیل کو 27 سفارت کاروں کی بے دخلی کی دھمکی
حکام کے مطابق سعودی عرب کو ترکیہ کی معاونت، جس میں فضائی دفاعی نظام بھی شامل ہے، فی الحال زیادہ تر دو طرفہ بنیادوں پر فراہم کی جائے گی، کیونکہ ترک پارلیمنٹ نے ابھی تک مکہ دفاعی معاہدے کی باضابطہ منظوری نہیں دی۔
ان کے مطابق معاہدے کی منظوری کے بعد ترکیہ کی جانب سے فراہم کی جانے والی معاونت کی مقدار اور نوعیت میں اضافہ کیا جائے گا۔
ایک باخبر امریکی عہدیدار نے بھی بتایا کہ ترکیہ نے اب تک عمومی طور پر دفاعی نوعیت کی صلاحیتیں فراہم کرنے کا فیصلہ کیا ہے، جن میں تزویراتی منصوبہ بندی اور لاجسٹک معاونت بھی شامل ہے۔
امریکی عہدیدار کے مطابق ترک معاونت میں ڈرون آپریٹرز، دفاعی اقدامات کو بہتر بنانے میں مدد، انٹیلی جنس، نگرانی اور جاسوسی کی صلاحیتیں بھی شامل ہوں گی۔
دوسری جانب ترکیہ کی حکمراں جماعت جسٹس اینڈ ڈیولپمنٹ پارٹی کے ترجمان عمر چیلیک نے کہا کہ توقع ہے کہ مکہ معاہدہ آئندہ چند روز کے دوران منظوری کے لیے ترک پارلیمنٹ میں پیش کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ اس کے بعد آئندہ اقدامات کا تعین کیا جائے گا۔
The post ترکی سعودی عرب کو دفاعی سازوسامان فراہم کرے گا appeared first on شیعہ نیوز پاکستان.


