شیعہ نیوز: فرانس کے وزیراعظم سیباسٹین لیکورنو نے ملک بھر میں پرتشدد مظاہروں کے دوران کاروباری مراکز اور املاک کو پہنچنے والے نقصانات کے بعد بلدیاتی سربراہوں کو مخصوص علاقوں میں کرفیو نافذ کرنے کا اختیار دے دیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق فرانس کے وزیراعظم نے بحران سے متعلق اجلاس کے بعد اعلان کیا کہ میئرز ضرورت کے مطابق اپنے علاقوں میں جزوی کرفیو نافذ کر سکتے ہیں۔ تاہم، انہوں نے یہ واضح نہیں کیا کہ کن شہروں میں یہ پابندیاں عائد کی جائیں گی۔
فرانس کے دوسرے بڑے شہر مارسیلے میں پہلے ہی مقامی وقت کے مطابق دوپہر 12 بجے سے رات 8 بجے تک عوامی اجتماعات پر پابندی عائد کرنے کا اعلان کیا جا چکا ہے۔
لیکورنو نے کہا کہ حکومت متاثرہ علاقوں کی بحالی کے لیے مالی وسائل فراہم کرے گی، تاہم نقصانات کی لاگت تشدد کے ذمہ دار افراد سے وصول کی جائے گی۔
ان کے مطابق، اس مقصد کے لیے قانون سازی کی جائے گی تاکہ املاک کو نقصان پہنچانے والوں کو مالی طور پر جواب دہ بنایا جا سکے۔
فرانس کے چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے سربراہ ایلین دی کریسینزو کے مطابق، ہفتے کے اختتام پر ہونے والے تشدد سے 2 ہزار سے زائد دکانیں اور دیگر کاروباری مراکز براہ راست متاثر ہوئے۔ انہوں نے نقصانات کا تخمینہ کروڑوں یورو میں لگایا۔
دوسری جانب فرانس کے وزیر داخلہ لوراں نونیز نے بتایا کہ تقریباً 200 تفتیش کار نگرانی کے کیمروں کی فوٹیج کا جائزہ لے رہے ہیں تاکہ پرتشدد مظاہروں کے ممکنہ منتظمین کی شناخت کی جا سکے۔
یہ بھی پڑھیں : اسرائیلی وزیر کی شرانگیزی، غزہ اور لبنان کے بعض علاقوں پر قبضے کا مطالبہ
رپورٹ کے مطابق، نونیز نے اتوار کے روز اپنے عہدے سے استعفیٰ دینے کی کوشش کی تھی، تاہم صدر ایمانوئل میکرون نے قانون نافذ کرنے والے اداروں کی قیادت میں تسلسل برقرار رکھنے کی ضرورت کا حوالہ دیتے ہوئے ان کا استعفیٰ مسترد کر دیا۔
نونیز نے اعتراف کیا کہ بعض شہروں میں پولیس صورت حال پر قابو کھو بیٹھی تھی۔
فرانس بھر میں ہونے والے مظاہروں میں طلبہ نے تعلیمی نظام میں بہتری، کلاس رومز میں گنجائش سے زیادہ طلبہ، اساتذہ کی کمی اور تعلیم کے شعبے میں مسلسل کم سرمایہ کاری کے خلاف احتجاج کیا۔
اس کے علاوہ مہنگائی اور عوامی خدمات کے معیار میں گراوٹ کے خلاف بھی شہری سڑکوں پر نکلے۔
رپورٹ کے مطابق، ہفتے کے روز ملک بھر میں پانچ لاکھ سے زائد افراد نے مظاہروں میں شرکت کی۔ مختلف شہروں میں لوٹ مار، آتش زنی اور توڑ پھوڑ کے واقعات پیش آئے۔
جبکہ نقاب پوش مظاہرین نے بلدیاتی دفاتر، پولیس اسٹیشنوں اور دیگر سرکاری عمارتوں کو بھی نشانہ بنایا۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق، ان واقعات میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کے تقریباً ایک ہزار اہلکار زخمی ہوئے، جبکہ لگ بھگ 2,500 افراد کو گرفتار کیا گیا۔
حکومت کی جانب سے صورت حال سے نمٹنے کے طریقۂ کار پر مقامی رہنماؤں نے بھی تنقید کی ہے، جن میں پیرس، مارسیلے اور لیموج کے میئرز شامل ہیں۔
The post فرانس میں پرتشدد مظاہروں کے بعد کرفیو نافذ کرنے کی اجازت، ہنگامی حالت کا انتباہ appeared first on شیعہ نیوز پاکستان.


