شیعہ نیوز: اسرائیلی فوج کے چیف آف اسٹاف ایال زامیر کو بنیامین نتن یاہو اور امریکی وزیر جنگ پیٹ ہیگسٹھ کی خصوصی ملاقات میں شرکت کی دعوت نہیں دی گئی، جسے اسرائیلی قیادت کے فیصلہ سازی کے نظام میں ممکنہ اختلافات کی علامت قرار دیا جا رہا ہے۔
رپورٹ کے مطابق المیادین ٹی وی چینل نے اسرائیلی ذرائع ابلاغ کے حوالے سے انکشاف کیا ہے کہ اسرائیلی فوج کے چیف آف اسٹاف ایال زامیر کو توقعات کے برخلاف، بنیامین نتن یاہو اور امریکی وزیر جنگ پیٹ ہیگسٹھ کے درمیان ہونے والی غیر معمولی ملاقات میں شرکت سے محروم رکھا گیا۔
یہ ملاقات مقبوضہ فلسطین کے جنوبی علاقے میں واقع عوودہ ایئر بیس پر ہوئی، جس میں دیگر حکام نے بھی شرکت کی، تاہم ان کی شناخت ظاہر نہیں کی گئی۔
یہ بھی پڑھیں : امریکی تیل کے ذخائر 1982ء کے بعد کم ترین سطح پر
رپورٹ کے مطابق، اسرائیلی فوج کے سربراہ کو اس نوعیت کی ملاقات میں مدعو نہ کرنا غیر معمولی اقدام ہے، کیونکہ فوجی حکمتِ عملی سے متعلق اجلاسوں اور امریکی دفاعی حکام کے ساتھ ملاقاتوں میں عموماً چیف آف اسٹاف کی شرکت اہم سمجھی جاتی ہے۔
اس صورتِ حال سے اسرائیلی حکومت کے اندر فیصلہ سازی کے نظام میں ممکنہ تبدیلی یا اختلافات کے بارے میں سوالات پیدا ہوئے ہیں۔
اس سے قبل اسرائیلی نشریاتی ادارے اور خبر رساں ایجنسی رائٹرز بھی رپورٹ کر چکے ہیں کہ امریکی وزیر جنگ پیٹ ہیگسٹھ نے اچانک اور غیر اعلانیہ دورے پر اسرائیل کا سفر کیا، جہاں انہوں نے نتن یاہو سے ملاقات کی۔
یہ ملاقات ایسے وقت میں ہوئی ہے جب اسرائیل میں پارلیمانی انتخابات قریب آ رہے ہیں اور داخلی سیاسی کشیدگی میں اضافہ ہو رہا ہے۔
The post نتن یاہو اور امریکی وزیر جنگ کی ملاقات سے اسرائیلی آرمی چیف کو خارج کر دیا گیا appeared first on شیعہ نیوز پاکستان.


