شیعہ نیوز: امریکی سفارت خانے نے یمن کی انصار اللہ تحریک کی جانب سے سعودی عرب کے دیگر علاقوں تک حملوں کے پھیلنے کے خدشے کے پیش نظر غیر ضروری سرکاری عملے اور ان کے اہل خانہ کو ملک سے نکلنے کی ہدایت کی ہے۔
رپورٹ کے مطابق، امریکی سفارت خانے نے ریاض میں ایک بیان جاری کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ امریکی محکمہ خارجہ نے سکیورٹی خطرات میں اضافے کے باعث 23 اکتوبر 2026 سے امریکی حکومت کے غیر ضروری ملازمین اور ان کے اہل خانہ کو سعودی عرب چھوڑنے کا حکم دیا ہے۔
بیان میں دعوی کیا گیا ہے کہ یمن کی انصار اللہ تحریک نے سعودی عرب کے شہری ہوائی اڈوں اور دیگر اہم بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنایا ہے، جس کے نتیجے میں شہری ہلاک و زخمی ہوئے اور فضائی سفر کا نظام بڑے پیمانے پر متاثر ہوا ہے۔
یہ بھی پڑھیں : شام نے “مکہ معاہدہ” میں شامل ہونے کا امکان ظاہر کردیا
امریکی سفارت خانے نے خبردار کیا ہے کہ جھڑپوں کا دائرہ تیزی سے دوسرے علاقوں تک پھیل سکتا ہے۔
سفارت خانے نے سعودی ہوائی اڈوں پر حالیہ میزائل اور ڈرون حملوں کا حوالہ دیتے ہوئے مزید کہا ہے کہ امریکی حکومت کے ملازمین کو سعودی عرب کے کسی بھی ہوائی اڈے سے سفر کرنے کے لیے اپنے اعلی افسر کی خصوصی اجازت حاصل کرنا ہوگی۔
اس کے علاوہ امریکی شہریوں کو بھی خبردار کیا گیا ہے کہ ہوائی اڈوں پر ممکنہ حملوں، فضائی حدود کی بندش، پروازوں کی منسوخی اور سفری نظام میں خلل کے خدشات کے پیش نظر سعودی عرب کے ہوائی اڈوں کے استعمال میں انتہائی احتیاط برتیں۔
The post سعودی عرب میں امریکی سفارت خانے کا سکیورٹی انتباہ، غیر ضروری عملے کو ملک چھوڑنے کا حکم appeared first on شیعہ نیوز پاکستان.


