شیعہ نیوز: ترکی کی اپوزیشن جماعتوں کے متعدد ارکان پارلیمنٹ نے معاہدۂ مکہ اور اس سے وابستہ فوجی ذمہ داریوں پر تنقید کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ یہ معاہدہ ترکی کو نئے تنازعات میں الجھا سکتا ہے۔
رپورٹ کے مطابق ترکی کی پارلیمنٹ کے متعدد اپوزیشن ارکان نے معاہدۂ مکہ اور اس سے منسلک فوجی ذمہ داریوں کی مخالفت کا اعلان کیا ہے۔
ترکی کی اپوزیشن جماعت ’’نیو پاتھ‘‘ کے رکن پارلیمنٹ نامق تان نے معاہدے کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ ہم ایسے معاہدے کے مخالف ہیں جس کے تحت ترک فوجیوں کی جانوں کا سودا سعودی ریال کے عوض کیا جائے۔ انہوں نے مزید کہا کہ مکہ معاہدہ صرف امریکہ اور صیہونی حکومت کے مفادات کا تحفظ کرتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں : نیتن یاہو کی پالیسیوں نے اسرائیل کو عالمی سطح پر بدنام کر دیا، اسرائیلی اخبار
انہوں نے زور دے کر کہا کہ ترک فوجیوں کی بنیادی ذمہ داری سعودی عرب کا دفاع کرنا نہیں بلکہ اپنے وطن کی حفاظت کرنا ہے۔ تان نے اس معاہدے کے حامیوں کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ وہ ایسے لوگوں کے مخالف ہیں جو سو سال بعد ایک مرتبہ پھر ترک عوام کو یمن کے ماتم پر مجبور کرنا چاہتے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ انتخابات کی قربت اور بعض حلقوں کو فوری مالی وسائل کی ضرورت بھی سعودی عرب سے رقم حاصل کرنے کی ممکنہ وجہ ہوسکتی ہے۔
ترکی کے ایک اور رکن پارلیمنٹ تحسین بیجان نے کہا کہ سعودی عرب 2015 سے یمن پر حملوں میں امریکہ اور صیہونی حکومت کے ساتھ تعاون کرتا آرہا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایسا لگتا ہے کہ ہم بھول گئے ہیں کہ یمنیوں نے اسرائیل کی جانب میزائل داغے تھے، حالانکہ یہی وہ حکومت ہے جو غزہ میں نسل کشی کررہی ہے۔
پارلیمنٹ کے ایک اور رکن متین ارگون نے سوال اٹھایا کہ ترکی کو ایک نئی فوجی ذمہ داری میں کیوں شامل ہونا چاہیے؟ انہوں نے کہا کہ اس ذمہ داری کی حدود، اس سے متعلق خطرات اور اس کی حتمی نوعیت ابھی واضح نہیں ہے۔
خاتون رکن پارلیمنٹ گیلان آکچا کوپولو نے بھی کہا کہ ہم معاہدۂ مکہ اور ان تمام جنگی معاہدوں کے مخالف ہیں جو ترکی کو مزید تنازعات میں دھکیل سکتے ہیں۔
رکن پارلیمنٹ لطفی تورقان نے زور دیا کہ ترکی کے فوجی دستوں کی نقل و حرکت اور ان کی تعیناتی کے مقامات کو دوسرے ممالک کے بحرانوں سے منسلک کرنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔
پارلیمنٹ کے رکن حسن کارال نے بھی کہا کہ ہمیں اپنے جائز دفاع کے حق اور کسی دوسرے ملک کے داخلی سیاسی ڈھانچے میں فوجی مداخلت کے درمیان فرق کرنا چاہیے۔
The post ترکی، اپوزیشن ارکان پارلیمنٹ کی معاہدۂ مکہ کی مخالفت، فوجی مداخلت پر تشویش appeared first on شیعہ نیوز پاکستان.


