الجولانی نے یہ بھی بتایا کہ ہم نے شام میں سرمایہ کاری کے مواقع پر بات کی تاکہ شام کو ایک سیکیورٹی تھریٹ کے بجائے ایک اسٹریٹیجک اتحادی کے طور پر دیکھا جائے، اسرائیل نے جولان پر قبضہ کر رکھا ہے اور ہم فی الحال اس کے ساتھ براہِ راست مذاکرات نہیں کریں گے، تاہم، امریکہ ہمیں اسرائیل کے ساتھ کسی نوعیت کے مذاکرات تک پہنچنے میں مدد کر سکتا ہے، روس کے ساتھ ہونے والی بعض بات چیت میں اُن افراد کی حوالگی پر بھی گفتگو ہوئی ہے جو مطلوب فہرست میں شامل ہیں، جن میں سابق صدر بشار الاسد بھی شامل ہیں، مگر روس کا اس معاملے پر ایک مختلف مؤقف ہے۔
واضح رہے کہ عبرانی اخبار ہارٹز نے اتوار کی دوپہر ایک رپورٹ میں انکشاف کیا تھا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ شام اور اسرائیل کے درمیان ایک جامع معاہدے کے لیے آخری اقدامات مکمل کر رہے ہیں۔ اس رپورٹ کے مطابق، اس جامع معاہدے کا ایک اہم پہلو اسرائیل کے ساتھ سیکیورٹی مفاہمت ہے، اور اس کے نتیجے میں شام ابراہام اکارڈ میں شمولیت اختیار کرے گا، یہ معاہدہ جو ابھی حتمی مذاکرات کے مرحلے میں ہے، شام میں استحکام پیدا کرنے اور اسے ایک وسیع تر علاقائی سیکیورٹی فریم ورک میں شامل کرنے کے لیے تیار کیا جا رہا ہے، شام داعش مخالف بین الاقوامی اتحاد میں شمولیت اختیار کرے گا اور امریکی ثالثی کے ذریعے اسرائیل کے ساتھ اپنے تعلقات کو معمول پر لانے کے عمل کا آغاز کرے گا۔
The post الجولانی کا اسرائیل کے ساتھ مذاکرات میں امریکہ کی مدد کا اعتراف appeared first on شیعہ نیوز پاکستان.


