شیعہ نیوز : اقوام متحدہ کے امن کار دستوں نے جمعہ کے روز انکشاف کیا ہے کہ اسرائیلی فوج لبنان کے جنوبی حصے کو دیوار تعمیر کر کے تقسیم کر رہی ہے۔
یہ دیوار اقوام متحدہ کی کھینچی گئی بلیو لائن کے نزدیک تعمیر کی جا رہی ہے۔ تاکہ اسے ڈیفیکٹو بارڈر بنایا جا سکے۔
دوسری جانب اسرائیل نے اس امر کی تردید کی ہے کہ وہ کوئی اس طرح کی دیوار کی تعمیر کر رہا ہے۔
یاد رہے 27 نومبر کو پچھلے سال ہونے والے جنگ بندی معاہدے کے باوجود اسرائیل نے جنوبی لبنان کے ان علاقوں مین نہ صرف اپنی بمباری اور دیگر فوجی کارروائیاں جاری رکھی ہوئی ہیں۔
بلکہ 5 مختلف فوجی پوزیشنوں کو بھی ابھی تک خالی نہیں کیا ہے ۔ برسوں پہلے سے اسرائیل فلسطین کے مقبوضہ علاقوں میں بھی ایک دیوار تعمیر کر چکا ہے۔ تاکہ مقبوضہ فلسطینی علاقوں پر اپنا قبضہ مستحکم رکھے اور مقامی فلسطینیوں کی آمد و رفت کو مکمل طور پر روک سکے۔ اب اسی طرح کی دیوار کا لبنان میں تعینات اقوام متحدہ کے امن دستوں نے انشکاف کیا ہے۔
اقوام متحدہ کے ان امن دستوں کو لبنان میں ‘یونیفل’ کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ یہ امن دستے لبنانی فوج کے ساتھ مل کر امن معاہدے پر عمل کے لیے کردار ادا کر رہے ہیں۔
‘یونیفل’ کے دستوں نے اسرائیلی دیوار بنانے کی کوششوں کو لبنان کی خودمختاری کے خلاف قرار دیا ہے۔
اس کی طرف سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ اسے ماہ اکتوبر میں ایک سروے کے دروران یہ معلوم ہوا کہ اسرائیلی فوج نے کنکریٹ کی مدد سے ایک ‘ٹی-وال’ کھڑی کی ہے۔ یہ یارؤن کے جنوب مغربی علاقے میں تعمیر کی گئی دیکھی گئی ہے۔
‘یونیفل’ کے بیان میں اس امر کی بھی نشاندہی کی گئی ہے کہ اسرائیلی دیوار بلیو لائن کو بھی عبور کر رہی ہے اور تقریباً 4000 مربع میٹر تک پھیلی ہوئی ہے۔ جہاں سے لبنانی شہریوں تک پہنچتی ہے۔
اسرائیلی فوج نے اس بارے اپنے مؤقف میں کہا ہے کہ اس کی یہ دیوار اسرائیلی فوج کے وسیع تر منصوبے کا حصہ ہے اور اس کی تعمیر کا آغاز 2022 میں کیا گیا تھا اور یہ اس لیے کیا گیا تھا کہ اسرائیلی فوج نے لبنان میں اپنی جنگوں سے یہ سبق سیکھا ہے کہ یہ ضروری ہے کہ پیش قدمی کرتے ہوئے ایسے اقدامات کیے جائیں جو سرحدوں کے نزدیک رکاوٹ کا باعث بنیں اور اسرائیل کی شمالی سرحد محفوظ رہ سکے۔ اسرائیلی فوج نے اس بیان میں یہ بھی کہا ہے کہ اس کی کوشش ہے کہ یہ دیوار بلیو لائن کو عبور نہ کرے ۔
یہ بھی پڑھیں : غزہ : حماس ایک بار پھر تیزی سے مضبوط ہورہی ہے
‘یونیفل’ کے بیان میں اسرائیل کے اس مؤقف کے باوجود یہ کہا گیا ہے کہ اسرائیلی فوج کی دیوار تعمیر کرنے کی کوشش سلامتی کونسل کی قرارداد نمبر 1701 کی خلاف ورزی ہے اور لبنانی خودمختاری کی برعکس ہے۔
یاد رہے سلامتی کونسل کی قرارداد نمبر 1701 سال 2006 میں منظور کی گئی تھی۔ جس کے بعد اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان جنگ بندی ہوئی تھی۔ اسی قرارداد کی بنیاد پر 27 نومبر 2024 کو اسرائیل اور لبنان کے درمیان دوبارہ جنگ بندی ہوئی ہے۔
تاہم اسرائیل تازہ جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی کے ساتھ ساتھ سلامتی کونسل کی قرارداد نمبر 1701 کی بھی خلاف رورزی کر رہا ہے۔
‘یونیفل’ کے بیان میں واضح کیا گیا ہے کہ اسرائیلی فوج کو اکتوبر میں کیے گئے سروے کی تفصیلات اور سامنے آنے والے حقائق سے آگاہ کر دیا گیا ہے اور اسرائیلی فوج سے درخواست کی گئی ہے کہ وہ اس دیوار کی تعمیر کو روکے۔
یو این امن دستے نے کہا کہ ہم اسرائیلی فوج سے دوبارہ مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ بلیو لائن کی خلاف ورزی نہ کرے اور اس کا احترام کرے اور اسرائیلی فوج اس کے آس پاس سے اپنے آپ کو ہٹا لے۔
The post اسرائیلی فوج کی بدمعاشی جاری ، لبنانی سرزمین پر تعمیرات شروع appeared first on شیعہ نیوز پاکستان.


