spot_img

ذات صلة

جمع

برکس کے بارے میں ہمارا رجحان غلط تھا: جرمن وزیر خارجہ کا اعتراف

تہران/ ارنا- جرمن وزیر خارجہ یوہان واڈیفول نے میونخ...

امریکی صدر کی ایران کو ایک اور گیڈر بھبکی

شیعہ نیوز: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران پر...

پنجاب بھر سے 26 دہشت گرد گرفتار ، القاعدہ کا ایک رکن بھی شامل

شیعہ نیوز: لاہور سمیت پنجاب بھر کے مختلف شہروں سے 26...

سوڈان میں مفادات کی جنگ، انسانیت کی شکست

تحریر: عرض محمد سنجرانی

سوڈان، جو کبھی افریقہ کا طاقتور اور خوبصورت ملک سمجھا جاتا تھا، آج خون، آنسو اور تباہی کی تصویریں بن چکا ہے، الفشر شہر کی سڑکوں پر لاشیں بکھری ہیں، گھروں کے ملبے میں بچے رو رہے ہیں، اور ماؤں کے جنازے اٹھ رہے ہیں، یہ مناظر کسی فلم کے نہیں بلکہ ایک حقیقت کے ہیں جس نے پوری دنیا کو جھنجھوڑ دینا چاہیے تھا مگر افسوس کہ عالمی ضمیر اب بھی سویا ہوا ہے، 26 اکتوبر کو ریپڈ سپورٹ فورس (RSF) نے سوڈان کے شمال مغربی شہر الفشر پر حملہ کیا، جو سوڈانی نیشنل آرمی (SAF) کا مضبوط گڑھ تھا، باغی فورس نے شہر پر مکمل قبضہ کر لیا، گلیاں بندوقوں سے گونجتی رہیں، اور صرف ایک دن میں دو ہزار سے زیادہ شہری مارے گئے، اقوامِ متحدہ اور انسانی حقوق کی تنظیموں کے مطابق یہ حملہ جدید زمانے کی بدترین شہری تباہی میں سے ایک ہے، اس لڑائی کے بعد الفشر شہر تقریباً مٹی کا ڈھیر بن چکا ہے، اسپتالوں میں زخمیوں کی گنجائش نہیں، پانی اور خوراک ختم ہو چکی ہے، بجلی غائب ہے، اور ہزاروں لوگ اپنے بچوں کو گود میں اٹھائے صحراؤں کی طرف بھاگ رہے ہیں۔

عالمی ادارہ برائے مہاجرین (UNHCR) کے مطابق دس لاکھ سے زیادہ لوگ دارفور، نیالا، الجنینہ، زالنجي، ام کداده اور الفشر جیسے علاقوں سے نقل مکانی کر چکے ہیں، سوڈان کے کئی شہر مکمل طور پر تباہ ہو گئے ہیں اور کچھ میں انسانی زندگی کے آثار ختم ہو رہے ہیں۔ سوڈان کی جنگ کی جڑ طاقت، اقتدار اور وسائل کی ہوس میں ہے، RSF اور SAF کے درمیان یہ لڑائی دراصل بیرونی ممالک کے مفادات کی جنگ ہے، متحدہ عرب امارات (UAE) پر الزام ہے کہ وہ RSF کو اسلحہ، فنڈنگ اور گاڑیاں فراہم کر رہا ہے تاکہ سوڈان کے سونے کے ذخائر اور بحیرہ احمر کے ساحلی علاقوں پر کنٹرول حاصل کیا جا سکے، دوسری طرف مصر (Egypt) سوڈانی نیشنل آرمی کی مدد کر رہا ہے کیونکہ وہ چاہتا ہے کہ سوڈان میں کوئی ایسی طاقت مضبوط نہ ہو جو اس کے مفادات کے لیے خطرہ بنے۔

سعودی عرب (Saudi Arabia) اور قطر (Qatar) بظاہر غیر جانبدار ہیں مگر ان کی نظریں بھی سوڈان کے تیل، بندرگاہوں اور افریقی تجارت پر ہیں، ترکیہ (Türkiye) اور اردن (Jordan) نے الفشر میں ہونے والے قتلِ عام اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی سخت مذمت کی ہے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ عالمی دنیا صرف بیانات تک محدود ہے، کوئی عملی قدم نظر نہیں آ رہا۔ دارفور، الفشر، نیالا، اور الجنینہ وہ علاقے ہیں جو اب میدانِ جنگ بن چکے ہیں، ان شہروں میں نسل کشی (Genocide) کے واقعات کی تصدیق ہو چکی ہے، خواتین اور بچیوں پر ظلم، اجتماعی قتل، گھروں پر چھاپے اور لوگوں کو سڑکوں پر گولی مار دینے جیسے واقعات عام ہوگئے ہیں، اسپتالوں میں لاشوں کی گنتی رک گئی ہے، اور قبروں میں جگہ ختم ہو رہی ہے،دنیا کے بڑے ممالک جو امن، انصاف اور انسانیت کی بات کرتے ہیں، آج ان مظلوم لوگوں کے لیے خاموش ہیں۔

وہی دنیا جو یورپ کی جنگوں پر شور مچاتی ہے، افریقہ کے خون پر خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے، یہ دوہرا معیار عالمی ضمیر کے زوال کا ثبوت ہے۔ سوڈان کی یہ جنگ ایک سیاسی نہیں بلکہ انسانی تباہی بن چکی ہے، وہاں بچے بغیر کھانے کے سڑکوں پر بیٹھے ہیں، مائیں اپنے گمشدہ بچوں کے نام پکار رہی ہیں، اور بزرگ راکھ بنے گھروں کو حسرت سے دیکھ رہے ہیں۔ یہ صرف ایک ملک کی بربادی نہیں بلکہ پوری انسانیت کی ناکامی ہے، اگر دنیا نے اب بھی خاموشی نہ توڑی تو سوڈان مکمل طور پر تباہ ہو جائے گا، دارفور کے میدانوں میں بہتا ہوا خون آنے والی نسلوں کو یہ یاد دلاتا رہے گا کہ جب انسانیت مرتی ہے تو صرف شہر نہیں جلتے، ضمیر بھی جل جاتے ہیں۔ سوڈان کے جلتے گھروں سے اٹھنے والا دھواں آج دنیا سے صرف ایک سوال پوچھ رہا ہے، کیا افریقہ کے انسان انسان نہیں، کیا ان کے آنسو کم قیمتی ہیں، اگر عالمی طاقتوں کے ضمیر نہیں جاگے تو کل تاریخ ان سب کو انسانیت کے قاتل قرار دے گی۔

The post سوڈان میں مفادات کی جنگ، انسانیت کی شکست appeared first on شیعہ نیوز پاکستان.

​ 

spot_imgspot_img