شیعہ نیوز: ایٹمی توانائی کی بین الاقوامی ایجنسی آئی اے ای اے میں چینی مندوب نے کہا ہے کہ بورڈ آف گونرس کے اجلاس میں ایران مخالف قرار داد کے مقابلے میں کوئی قرارداد منظور کرانے کی کوششیں حالات کو بہتر بنانے کے بجائے مزید خراب کر دیں گی۔
رپورٹ کے مطابق چین کے مستقل نمائندے لی سونگ نے بورڈ آف گورنرس کے اجلاس میں کہا ہے کہ ایران کے ایٹمی پروگرام سے متعلق مجودہ صورت حال کے ذمہ دار وہ ممالک ہیں جو طاقت کے بے دریغ استعمال اور ایران کے خلاف دباؤ اور تصادم کی پالیسی پر اصرار کرتے رہے ہیں۔
چینی مندوب نے کہا کہ اسرئیلی حکومت اور امریکہ نے رواں سال جون میں ایران کی اُن جوہری تنصیبات پر حملہ کیا جو مکمل طور پر آئی اے ای اے کی نگرانی اور سیف گارڈ سسٹم کے تحت کام کررہی تھیں۔
یہ بھی پڑھیں : داعشی ڈرون الجولانی کے حکومتی مقامات سے اڑان بھرتے ہیں، کرد ملیشیا
انھوں نے کہ کہ اس جارحیت نے ایران کے جوہری مسئلے کی صورتِ حال میں بنیادی تبدیلی پیدا کی۔ چینی مندوب نے کہا کہ اس جارحیت کی عالمی برادری اور آئی اے ای اے کی جانب سے شدید مذمت ہونی چاہیے۔
آئی اے ای اے میں چینی مندوب نے کہا کہ ستمبر میں آئی اے ای اے کے ڈائریکٹر جنرل اور ایران کے درمیان قاہرہ معاہدہ ہوا، جو ایک مثبت پیش رفت تھی لیکن برطانیہ، فرانس اور جرمنی نے اسنیپ بیک فعال کر کے پابندیوں کی فوری بحالی کا عمل شروع کردیا، جس نے ایران اور آئی اے ای اے کے درمیان مثبت تعاون کی فضا کو سخت نقصان پہنچایا۔
چینی مندوب نے زور دیا کہ ایران کے جوہری مسئلے کا درست حل صرف اسی صورت میں ممکن ہے جب این پی ٹی کے رکن کی حیثیت سے ایران کے پُرامن جوہری توانائی کے استعمال کے قانونی حق کا مکمل احترام کیا جائے ۔
The post ایران کے خلاف تقابلی قرارداد کی منظوری صرف صورت حال کو مزید خراب کرے گی، چینی مندوب appeared first on شیعہ نیوز پاکستان.


