شیعہ نیوز: اسلامی مزاحمتی تحریک حماس نے کہا ہے کہ فلسطینی نوجوانوں کو پھانسی دینا اسرائیل کے نسل کشی کے منصوبے کا حصہ ہے۔ دونوں نوجوان ایک محاصرہ زدہ گھر سے باہر نکلے تھے اور کسی بھی قسم کے خطرے یا مزاحمت کا باعث نہیں تھے، اس کے باوجود اسرائیلی فوج نے انہیں بے رحمی سے صفر کے فاصلے سے گولیاں مار کر شہید کردیا۔
حماس نے اپنے بیان میں کہا کہ یہ جرم اس مجرمانہ ذہنیت کی واضح عکاسی کرتا ہے جو اسرائیلی فوج کے تمام تر طرزعمل پر غالب ہے اور جو ہر قانون، ہر اخلاقی ضابطے اور ہر انسانی قدر کو روندتے ہوئے مسلسل فلسطینی خون بہا رہی ہے۔
حماس نے دونوں شہید نوجوانوں کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ یہ واقعہ کوئی انفرادی حادثہ نہیں بلکہ اسرائیل کی اس منظم نسل کشی اور منصوبہ بند صفایا مہم کی نئی کڑی ہے جو مغربی کنارے کے فلسطینیوں کو نشانہ بنا رہی ہے، تاکہ انہیں جبری نکل مکانی اور زمینوں کے ضم کے شیطانی منصوبے کے آگے جھکایا جا سکے۔
یہ بھی پڑھیں : پاکستان ایران سے بجلی کتنے روپے فی یونٹ خریدتا ہے؟ سینیٹ میں وضاحت
بیان میں مزید کہا گیا کہ مغربی کنارے کے مختلف علاقوں خصوصاً شمالی علاقوں میں اسرائیل کی بڑھتی ہوئی فوجی یلغار اور تباہ کن کارروائیاں اس حقیقت کو ثابت کرتی ہیں کہ مزاحمت ہی فلسطینی قوم کا فطری اور جائز جواب ہے، جو اسرائیل کی جارحیت اور جرائم کا مقابلہ کرنے کے لیے ناگزیر ہے۔
جمعرات کے روز اسرائیلی فوج نے جنین شہر میں ایک گھر کا محاصرہ کرکے دو فلسطینی نوجوانوں کو انتہائی قریب سے براہ راست گولیاں مار کر شہید کیا۔ یہ ميدانی قتل اس لمحے ہوا جب دونوں نوجوان ہتھیار ڈالنے کے لیے گھر سے باہر آئے تھے۔
مقامی ذرائع کے مطابق ایک اسرائیلی خصوصی یونٹ جبل ابو ظہیر کے علاقے میں داخل ہوئی، پھر ایک گھر کا محاصرہ کر کے ایک نوجوان کو زبردستی پکڑا اور اسے تشدد کا نشانہ بنایا۔
محاصرے کے دوران جب دو نوجوان یوسف درویش اور منتصر وردہ اپنی جانیں بچانے کے لیے خود کو قابض فوج کے حوالے کرنے نکلے تو اسرائیلی فوج نے انہیں واپس گھر کے اندر جانے پر مجبور کیا۔ چند لمحوں بعد اسرائیلی سپاہیوں نے ان پر براہ راست گولیاں برسائیں جس کے نتیجے میں دونوں موقع پر شہید ہو گئے۔
The post مغربی کنارے میں 2 فلسطینی نوجوانوں کو پھانسی دیے جانے پر حماس کا شدید ردعمل appeared first on شیعہ نیوز پاکستان.


