شیعہ نیوز: اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کے ترجمان اسٹیفان ڈوجاریک نے متنبہ کیا ہے کہ غزہ کی پٹی پر دو برس سے جاری اسرائیل کی جنگ کے نتیجے میں تباہ ہونے والا طبی انفراسٹرکچر اور بنیادی امدادی سامان کی شدید کمی وہاں کے شہریوں کو ضروری طبی سہولیات فراہم کرنے کی کوششوں کو سخت طور پر متاثر کر رہی ہے۔
ڈوجاریک نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ غزہ کا انسانی بحران ’’انتہائی سنگین‘‘ ہے، اگرچہ امدادی سرگرمیاں جاری ہیں مگر وہ ناکافی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ صحت اور انسانی امداد کی ضروریات اس رفتار سے بڑھ رہی ہیں جو فیلڈ میں کام کرنے والے اداروں کی استطاعت سے کہیں زیادہ ہے۔
یہ بھی پڑھیں : اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل ایران اور قرارداد 2231 پر رپورٹ کریں گے، سیموئیل زنگوگر
انہوں نے وضاحت کی کہ اقوام متحدہ کے انسانی امور کے کوآرڈی نیٹر نے اس بات پر زور دیا ہے کہ امدادی سامان کو بلا کسی تعطل غزہ میں داخل ہونے دیا جائے اور متعلقہ اداروں اور شراکت داروں کو طبی اور انسانی امداد پہنچانے میں کسی قسم کی رکاوٹ سامنے نہ آئے۔
یہ اقوام متحدہ کی طرف سے انتباہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب سات اکتوبر سنہ 2023 سے اسرائیل نے غزہ میں سفاکیت کے ساتھ نسل کشی کی مہم جاری رکھی ہوئی ہے جس میں قتل، بھوک، تباہی اور جبری ہجرت جیسے جرائم شامل ہیں اور وہ اس سلسلے میں بین الاقوامی مطالبات اور عالمی عدالت انصاف کے احکامات کو بھی نظر انداز کر رہا ہے۔
اسرائیل کے اس جارحانہ حملے نے اب تک دو لاکھ اڑتیس ہزار سے زائد فلسطینیوں کو شہید و زخمی کر دیا ہے جن میں اکثریت خواتین اور بچوں کی ہے۔ اس کے علاوہ نو ہزار سے زیادہ فلسطینی لاپتا ہیں اور لاکھوں افراد کو بے گھر کر دیا گیا ہے۔ غزہ میں مسلط کی گئی مجاعہ نے متعدد شہریوں خصوصاً بچوں کی جانیں لے لی ہیں جبکہ رہائشی علاقوں اور بنیادی ڈھانچے کو بے پناہ تباہی کا سامنا کرنا پڑا ہے۔
The post غزہ میں طبی نظام کی تباہی اور امداد کی کمی علاج کی توسیع میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے، ڈوجاریک appeared first on شیعہ نیوز پاکستان.


