شیعہ نیوز: اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے فلسطین اور مقبوضہ شامی گولان پر قابض اسرائیل کے غیرقانونی تسلط کے خاتمے کے لیے دو اہم قراردادیں منظور کر لیں، جو عالمی برادری کی سطح پر فلسطینی کاز اور عرب حقوق کی دوبارہ توثیق کی حیثیت رکھتی ہیں۔
فلسطین سے متعلق قرارداد منگل کے روز جیبوتی، اردن، موریتانیا، قطر، سینیگال اور ریاست فلسطین کی جانب سے پیش کی گئی۔
اس قرارداد کے حق میں 151 ممالک نے ووٹ دیا، جب کہ صرف 11 ممالک نے اس کی مخالفت کی جن میں اسرائیل اور امریکہ سب سے نمایاں ہیں۔ مزید 11 ملکوں نے ووٹنگ میں حصہ نہیں لیا۔
یہ بھی پڑھیں : قاہرہ کا غزہ میں جنگ بندی کو مستحکم کرنے کے لیے امریکہ کے ساتھ تعاون جاری ہے، عبد العاطی
منظور شدہ قرارداد اقوام متحدہ کی فلسطینی مسئلے کے حوالے سے ذمہ داری کا اعادہ کرتی ہے اور مطالبہ کرتی ہے کہ اسرائیل سنہ 1967ء کے بعد قبضے میں لی گئی تمام فلسطینی سرزمین سے ہٹ جائے، ساتھ ہی یہ قرارداد دو ریاستی حل کی بھی حمایت کرتی ہے۔
جنرل اسمبلی نے دوسری قرارداد بھی منظور کی جو مصر نے پیش کی تھی۔ یہ قرارداد اسرائیل سے مطالبہ کرتی ہے کہ وہ شامی گولان کی مکمل طور پر غیرقانونی اور ناجائز قبضہ شدہ سرزمین سے پسپائی اختیار کرے، اور گولان کے انضمام کو بین الاقوامی قانون کی صریح خلاف ورزی قرار دیتی ہے۔
اس قرارداد کے حق میں 123 ممالک نے ووٹ دیا، جب کہ 7 نے اس کی مخالفت کی جن میں اسرائیل اور امریکہ شامل ہیں، جبکہ 41 ممالک نے ووٹنگ میں حصہ لینے سے گریز کیا۔
قرارداد میں واضح کیا گیا ہے کہ اسرائیل کی جانب سے شامی گولان پر قبضہ اور اس کا عملی انضمام بین الاقوامی قوانین کی سنگین خلاف ورزی ہے اور سلامتی کونسل کی سنہ 1981ء کی قرارداد نمبر 497 سے براہ راست متصادم ہے۔
اس قرارداد کے بعد جاری ہونے والے پہلے ردعمل میں شامی وزارت خارجہ نے کہا کہ قرارداد اسرائیل سے مطالبہ کرتی ہے کہ وہ پورے کے پورے مقبوضہ شامی گولان سے انخلا کرے۔ وزارت خارجہ کے مطابق قرارداد کے حق میں بڑھتے ہوئے ووٹ اس بات کی دلیل ہیں کہ عالمی سطح پر نئی شام کے موقف اور مقبوضہ گولان کی آزادی کے اصولی مؤقف کو مسلسل بڑھتا ہوا عالمی تعاون حاصل ہو رہا ہے۔
The post اقوام متحدہ میں دو اہم قراردادیں منظور، فلسطین اور مقبوضہ گولان پر اسرائیلی قبضہ ختم کرنے کا مطالبہ appeared first on شیعہ نیوز پاکستان.


