شیعہ نیوز: بحیرۂ احمر اور بابالمندب کا علاقہ ایک ایسے اسٹریٹجک تغیر کا گواہ ہے جو یمن کو خطے کی نئی “فیصلہ ساز طاقت” میں تبدیل کر چکا ہے۔ جب کہ مغربی اور علاقائی طاقتیں “شراکتِ امنیت دریایی” جیسے منصوبوں کے ذریعے صنعاء کے بڑھتے ہوئے عسکری اور بحری اثر کو روکنے کی کوشش کر رہی ہیں، یمن نے ثابت کر دیا ہے کہ جنگ اور محاصرے کے باوجود وہ نہ صرف اتحادوں اور اسرائیل کے خلاف ڈٹ کر کھڑا ہے بلکہ ایک نیا بازدارندگی کا توازن بھی مسلط کر رہا ہے۔
بحیرۂ احمر اور تنگۂ بابالمندب آج ایسے غیر معمولی اسٹریٹجک واقعات کا مرکز بن چکے ہیں جنہوں نے یمن کو علاقائی اور عالمی توجہ کا محور بنا دیا ہے۔ یمنی فوج کی بڑھتی ہوئی کارروائیوں اور اس کے بحری و سیاسی اثر و رسوخ کے پھیلاؤ کے ساتھ، مغربی اور علاقائی طاقتیں نئے اتحادوں اور منصوبوں کے ذریعے اس بڑھتے ہوئے اثر کو محدود کرنا چاہتی ہیں۔
اس کے برخلاف، صنعاء نے غیر معمولی مزاحمتی صلاحیت اور چابک دستی دکھائی ہے اور دباؤ کو سیاسی و عسکری کامیابیوں میں بدل دیا ہے۔ متعدد مغربی رپورٹس تصدیق کرتی ہیں کہ آج یمن بین الاقوامی اتحادوں اور صہیونی ریاست کے مقابلے میں پُرعزم کھڑا ہے اور خطے میں نئی بازدارندگی کی مساوات قائم کر چکا ہے۔
یہ بھی پڑھیں : اگر یورپ نے جنگ شروع کی تو ہم بھی تیار ہیں، روسی صدر پوتین
جبکہ مغرب مسلسل “بحری سلامتی” کی بات کرتا ہے، حقیقت یہ ہے کہ اب یمن اپنی مطلوبہ سکیورٹی خود مسلط کر رہا ہے۔ آج کا منظرنامہ ماضی جیسا نہیں، اور یمن جنگ و محاصرے کے باوجود خطے اور عالمی طاقت کے توازن میں مرکزی کردار ادا کرنے کی صلاحیت ثابت کر چکا ہے۔
بحری سلامتی کے نام پر مغربی سازش
امریکہ، برطانیہ اور سعودی عرب یمن کی بحری قوت کو محدود کرنے کے لیے ایک نیا منصوبہ “یمن میری ٹائم سیکیورٹی پارٹنرشپ (YMSP)” پیش کر چکے ہیں۔ بظاہر یہ منصوبہ جہازرانی کے تحفظ اور اسمگلنگ کی روک تھام کے لیے ہے، لیکن اس کے پیچھے بڑا مقصد صنعاء کے بابالمندب اور بحیرۂ احمر پر بڑھتے ہوئے کنٹرول کو محدود کرنا ہے۔
اس منصوبے کی افتتاحی نشست میں 30 سے زیادہ ممالک کے نمائندوں نے شرکت کی، اور ریاض، لندن و یورپی یونین نے اس کی مالی معاونت کے لیے لاکھوں ڈالر فراہم کرنے کا اعلان کیا۔ لیکن مغربی ماہرین خود اعتراف کرتے ہیں کہ اس سے پہلے کے مشابہ منصوبے اس لیے ناکام ہوئے کہ یمن میں عرب اتحاد کے زیرِ اثر حکومت کی سکیورٹی ڈھانچہ کمزور ہے اور وہ مکمل طور پر بیرونی حمایت پر منحصر ہے۔
امریکی تجزیہ کار اریک ناوارو تسلیم کرتے ہیں کہ یہ منصوبہ محض پچھلی ناکام پالیسیوں کا اعادہ ہے، جس کا مقصد انصاراللہ کی بڑھتی ہوئی بحری طاقت کا مقابلہ کرنا ہےوہی مقصد جو عسکری کارروائیوں کے ذریعے حاصل نہ ہو سکا۔
لہٰذا مغربی طاقتیں نئے اوزاروں کے ذریعے وہ کامیابیاں واپس لینا چاہتی ہیں جو میدانِ جنگ میں کھو چکی ہیں، مگر زمینی حقائق ان کے نظریاتی منصوبوں سے کہیں مختلف ہیں۔
یمنی مزاحمت کے سامنے اتحاد کی ناکامی
گزشتہ دو سال کے واقعات ثابت کرتے ہیں کہ سعودی عرب کی سربراہی میں بننے والا مغربی حمایت یافتہ اتحاد نہ یمن کے عوام کی ارادے کو توڑ سکا اور نہ ہی ان کی صلاحیتوں کو محدود کر سکا۔ ہزاروں امریکی اور اسرائیلی فضائی حملوں کے باوجود صنعاء کی میزائل اور بحری طاقت بدستور مضبوط اور مؤثر ہے۔
ناوارو کے مطابق یمنی فوج نے الحدیدہ اور بابالمندب جیسے اسٹریٹجک علاقوں میں اپنے ٹھکانے برقرار رکھے ہیں اور طاقت کا توازن اپنے حق میں تبدیل کرنے میں کامیاب ہوئی ہے۔
یمنی فوج دفاعی حکمتِ عملی سے بڑھ کر پیشگی کارروائیوں کی طرف گئی ہے، اسرائیل سے منسلک جہازوں پر درست حملے کیے ہیں اور مغربی و علاقائی محاذوں کی تمام حساب کتاب کو درہم برہم کر دیا ہے۔ یمن کے ساحلی گارڈ کی دوبارہ تشکیل میں ناکامی نے بھی اتحاد کی سکیورٹی کا کمزور ڈھانچہ ظاہر کر دیا ہے اور اس کی بحری پوزیشن مزید کمزور ہوئی ہے۔
ہر نئے عسکری یا اقتصادی دباؤ کے جواب میں صنعاء اپنی سیاسی بصیرت اور داخلی قوت کے ساتھ اور زیادہ طاقتور ہو کر ابھری ہے۔ یہی یمنیوں کی ثابت قدمی ہے جس نے بحیرۂ احمر کو بدلتے ہوئے طاقت کے توازن کا میدان بنا دیا ہے۔
یمن کا پُراعتماد اور مضبوط موقف اسرائیل کے مقابل
علاقائی اتحاد کے ساتھ لڑائی کے متوازی، یمن کی اسرائیل کے ساتھ براہِ راست مقابلہ آرائی خطے کی نمایاں ترین تبدیلیوں میں شمار ہوتی ہے۔ میڈیا رپورٹس تصدیق کرتی ہیں کہ آج یمن پورے اعتماد کے ساتھ اسرائیل کے سامنے کھڑا ہے اور کسی بھی جنگ بندی یا معاہدے پر اپنے شرائط مسلط کر رہا ہے۔
صنعاء نے اپنی بحری اور فضائی کارروائیوں کی معطلی کو اسرائیل کی جانب سے موجودہ معاہدوں کی پابندی سے مشروط کر دیا ہےجو اس تنازعے کی تاریخ میں بے مثال ہے۔
رپورٹس کے مطابق یمنی فورسز نے طویل فاصلے تک مار کرنے والے حملے کیے جو مقبوضہ علاقوں میں اہداف پر لگے، اسرائیلی فضائی ٹریفک کو معطل کیا اور اس کے دفاعی نظام تک رسائی حاصل کی۔ یہ عسکری کامیابی سیاسی استقامت کے ساتھ مل کر واشنگٹن کو مجبور کرتی ہے کہ وہ اسرائیل کے بارے میں اپنی پالیسی، کم از کم یمن کے معاملے میں، دوبارہ ترتیب دے۔
امریکہ اس نتیجے پر پہنچا کہ اسرائیل سے اندھی وابستگی اب خطے میں اس کے مفاد میں نہیں۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس مقابلہ آرائی نے یمن کی مستقل فیصلہ سازی کی قوت، علاقائی خودمختاری اور محاصرے و جنگ کے باوجود اپنی شرطیں منوانے کی صلاحیت کو واضح کر دیا ہے۔
مغربی منصوبے کا سیاسی پہلو اوراتحاد کے اندرونی اختلافات
سیاسی محاذ پر دیکھا جائے تو “یمن بحری سلامتی شراکت” کا منصوبہ دراصل عرب اتحاد سے وابستہ ساحلی فورسز کی دوبارہ بحالی کی کوششوں کے لیے ایک پردے سے زیادہ کچھ نہیں۔ اس منصوبے میں شریک گروہ بشمول امارات کے حمایت یافتہ جنوبی عبوری کونسل اور قومی مزاحمت بحرِ احمر اور عدن کی بندرگاہوں میں اپنی موجودگی مستحکم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں تاکہ وہ بحیرۂ احمر پر مستقل اثر و رسوخ قائم رکھ سکیں۔
تاہم مغربی تجزیہ کاروں کے مطابق، یہ حکمتِ عملی عرب اتحاد کے حامی کیمپ کے اندر اختلافات کو گہرا کرتی ہے اور ان علاقوں میں سکیورٹی کے فیصلوں کی وحدت کو کمزور بناتی ہے، جو ان کے کنٹرول میں ہیں۔
اس کے علاوہ، اس منصوبے کا بیرونی مالی امداد پر انحصار عدن کی حکومت کی سیاسی وابستگی کو مزید بڑھا دیتا ہے۔ یہ حکومت بغیر مدد فراہم کرنے والے ممالک کی براہِ راست نگرانی کے بحری مسئلے کا انتظام کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتی۔
اس کے برعکس، صنعاء نے ان اختلافات کو اپنی پوزیشن مضبوط کرنے کے لیے استعمال کیا ہے اور شمال میں ایک متحد مرکزی قوت کے طور پر خود کو مستحکم کیا ہے۔ بیرونی حمایت یافتہ فریقوں کے درمیان جاری اختلافات کے ساتھ، انصاراللہ کی یہ صلاحیت مزید بڑھ رہی ہے کہ وہ اپنے اثر کو مستحکم کرے اور مستقبل میں بحیرۂ احمر اور بین الاقوامی بحری سلامتی سے متعلق کسی بھی ممکنہ معاہدے میں اپنی شرائط نافذ کرے۔
خطے میں نئی بڈیٹئیرنس کا توازن
علاقائی اعداد و شمار اس بات پر زور دیتے ہیں کہ یمن مشرقِ وسطیٰ میں بازدارندگی کی مساوات کا کلیدی حصہ بن چکا ہے۔ برسوں کی جنگ اور محاصرے کے بعد، انصاراللہ نے اپنی جغرافیائی پوزیشن کو ایک اسٹریٹجک اثاثے میں تبدیل کر لیا ہے جو بحیرۂ عرب کو بحیرۂ احمر سے جوڑتا ہے؛ یعنی یمن کے خلاف کسی بھی خطرے کا مطلب بین الاقوامی جہازرانی کے خلاف براہِ راست خطرہ ہے۔
یہ نئی حقیقت بڑی طاقتوں کو مجبور کر رہی ہے کہ وہ اپنے حسابات کا دوبارہ جائزہ لیں۔ روایتی عسکری کارروائیاں اب نہ کنٹرول کے لیے کافی ہیں اور نہ سیاسی اہداف کے حصول کے لیے۔
مزید یہ کہ ایسا نہیں لگتا کہ نئی سفارتی کوششیں اس حقیقت کو بدل سکیں گی کہ صنعاء اب آزاد فیصلہ سازی کی صلاحیت حاصل کر چکا ہے اور اپنی شرائط کو طاقت کی پوزیشن سے نافذ کرتا ہے۔
مبصرین کے مطابق یمن کا نیا بازدارندہ توازن صرف بحیرۂ احمر تک محدود نہیں بلکہ خلیج فارس اور شاخِ افریقا کے تزویراتی توازن پر بھی اثر انداز ہو چکا ہے۔ لہٰذا آج جو تبدیلیاں رونما ہو رہی ہیں، وہ کسی محدود تنازعے کی عکاسی نہیں بلکہ علاقائی سلامتی کے ایک نئے مرحلے کا آغاز ہیں۔ جس میں یمن ایک ایسا مرکزی کردار ہے جسے نہ نظر انداز کیا جا سکتا ہے اور نہ حاشیے پر دھکیلا جا سکتا ہے۔
آخرکار یمن اب صرف ایک روایتی جنگ کا میدان نہیں رہا، نہ ہی مغرب دعویٰ کرتا ہے کہ ایک پراکسی ریاست؛ بلکہ وہ علاقائی اور بین الاقوامی سکیورٹی کی مساوات کا ایک بنیادی عنصر بن چکا ہے۔ انصاراللہ، جو انتہائی طاقتور اتحادوں کا سامنا کر چکا ہے، یہ ثابت کر چکا ہے کہ سیاسی اور میدانی ارادہ تاریخ کا رخ بدل سکتا ہے۔
جیسے جیسے مغربی طاقتیں اتحادوں اور نئے منصوبوں کے ذریعے صورت حال کو بدلنے کی کوشش جاری رکھتی ہیں، صنعاء اپنی طاقت بڑھانے اور اپنی اسٹریٹجک پوزیشن کو استعمال کرنے کا سلسلہ جاری رکھتا ہے۔ بحیرۂ احمر اور بابالمندب میں جو کچھ ہو رہا ہے، وہ محض ایک عسکری ٹکراؤ نہیں، بلکہ طاقت کے توازن میں ایک گہری تبدیلی ہےاور اس تبدیلی کا نمایاں عنوان یہ ہے:
یمن فیصلہ کرتا ہے، اور دنیا اپنے حسابات پر نظرِ ثانی کرتی ہے۔
The post مغرب منصوبہ بناتا ہے، فیصلہ یمن کرتا ہے appeared first on شیعہ نیوز پاکستان.


