شیعہ نیوز: سلطنت عمان کے مفتیِ عام شیخ احمد الخلیلی نے کہا ہے کہ صہیونی ریاست اب بھی ہمارے اہلِ غزہ پر اپنے حملے جاری رکھے ہوئے ہے خصوصاً رفح میں محصور فلسطینیوں پر اس کی سفاکیت میں کوئی کمی نہیں آئی۔ انہوں نے کہا کہ ہونے والا جنگ بندی معاہدہ کسی مثبت نتیجے تک نہیں پہنچا۔
شیخ الخلیلی نے “ایکس” پر جاری اپنے بیان میں وضاحت کی کہ یہ صورت حال اس بات کا تقاضا کرتی ہے کہ غزہ کے حوالے سے ہونے والے اجلاس میں شریک ممالک فوری مداخلت کریں۔
انہوں نے ان ممالک کی خاموشی پر شدید حیرت کا اظہار کیا اور کہا کہ عالمی برادری خصوصاً اسلامی دنیا کا اس ظلم پر خاموش رہنا انتہائی افسوسناک ہے۔
یہ بھی پڑھیں : کب تک مصلحت؟ سپاہِ صحابہ اور اورنگزیب فاروقی کے انتہا پسندانہ بیانیے پر ریاستی خاموشی سوالیہ نشان
انہوں نے فوری اور مؤثر اقدام کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے دنیا کے تمام زندہ ضمیر انسانوں سے مطالبہ کیا کہ وہ فلسطینی کاز کے لیے اپنی امداد اور جدوجہد جاری رکھیں خصوصاً غزہ کے لیے۔
شیخ الخلیلی نے کہا کہ جو کچھ ہو رہا ہے وہ انتہائی خطرناک ہے اور ان مظالم پر خاموش رہنا ایک ایسا داغ ہے جسے وقت بھی نہیں دھو سکتا۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ یہ مسئلہ کب تک یونہی لٹکا رہے گا۔
سات اکتوبر 2023ء سے اسرائیل امریکہ اور یورپ کی سرپرستی میں غزہ کی پٹی پر نسل کشی کی مہم جاری رکھے ہوئے ہے جس میں قتل، بھوک، تباہی، جبری بے دخلی اور گرفتاریوں جیسے جرائم شامل ہیں۔ قابض اسرائیل بین الاقوامی مطالبات اور عالمی عدالتِ انصاف کے جنگ بندی اور قتلِ عام روکنے کے احکامات کو مسلسل نظر انداز کر رہا ہے۔
The post غزہ پر ڈھائے جانے والے مظالم پر خاموشی ناقابل فہم ہے، مفتی اعظم شیخ الخلیلی appeared first on شیعہ نیوز پاکستان.


