spot_img

ذات صلة

جمع

قومی خواتین انڈور ہاکی چیمپئن شپ

تہران (IRNA) انڈر 23 کے لیے قومی خواتین...

سپاہ پاسداران انقلاب نے”آبنائے ہرمز کے اسمارٹ کنٹرول” فوجی مشقیں منعقد کیں

تہران/ ارنا- سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کی بحریہ کی...

یمنی صوبے شبوہ میں سعودی پیش قدمی، اماراتی اثر و رسوخ کو خطرہ

شیعہ نیوز: سعودی افواج کی عتق میں داخلے اور...

ایرانی وزیر خارجہ سید عباس عراقچی تہران سے جنیوا کے لیے روانہ

شیعہ نیوز: ایران کے وزیر خارجہ سید عباس عراقچی...

ایران پر اپنی مرضی تھوپنے میں مغرب ناکام ہوگا، شیخ علی دعموش

شیعہ نیوز: حزب اللہ کی مجلس عاملہ کے سربراہ...

کب تک مصلحت؟ سپاہِ صحابہ اور اورنگزیب فاروقی کے انتہا پسندانہ بیانیے پر ریاستی خاموشی سوالیہ نشان

شیعہ نیوز : ملک میں دہشت گردی کی تازہ لہر کے بعد سپاہِ صحابہ پاکستان اور مولانا اورنگزیب فاروقی کے حوالے سے سنگین سوالات دوبارہ زور پکڑ رہے ہیں۔

سیکیورٹی حلقوں اور سماجی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ جماعت طویل عرصے سے ایسا بیانیہ بڑھا رہی ہے جو تحریک طالبان پاکستان (TTP) کی فکری خطوط سے خطرناک حد تک ملتا جلتا ہے۔

طالبان پر خاموشی — اتفاق یا سوچ؟

ناقدین کے مطابق حیران کن بات یہ ہے کہ سپاہِ صحابہ سے وابستہ کئی خطباء نے ملک میں ہزاروں جانیں لینے والی تحریک طالبان کے خلاف آج تک کھل کر مؤقف نہیں دیا۔

ان کی مساجد اور جلسوں میں TTP کی کارروائیوں کی واضح اور دو ٹوک مذمت کبھی سننے میں نہیں آئی جو کہ ایک سنگین سوال کھڑا کرتی ہے:

ریاستی اداروں سے سخت اقدام کا مطالبہ :

ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان نے دہائیوں سے دہشت گردی کی جس قیمت کا بوجھ اٹھایا ہے، اس کے بعد ایسے گروہوں کے معاملے میں مزید نرم گوشہ رکھنا قومی سلامتی کے ساتھ کھلواڑ کے مترادف ہے۔

سخت بیانیہ اختیار کرنے والے تجزیہ کاروں نے واضح کہا کہ:

یہ بھی پڑھیں : اگر یورپ نے جنگ شروع کی تو ہم بھی تیار ہیں، روسی صدر پوتین

“جو گروہ شدت پسند سوچ کو پروان چڑھائے یا دہشت گردی کے بیانیے سے قربت رکھے، اسے صرف ‘سیاسی اختلاف’ کہہ کر چھوڑ دینا اب ممکن نہیں۔”

فکری ہم آہنگی یا نظریاتی پردہ پوشی — تحقیقات ضروری

متعدد سیکیورٹی ماہرین کا کہنا ہے کہ TTP کے ساتھ براہ راست تعلقات ہوں یا نہ ہوں، فکری ہم آہنگی خود ایک خطرہ ہے۔

ریاست سے مطالبہ کیا جارہا ہے کہ ایسے عناصر کے خلاف واضح، دو ٹوک اور سخت کارروائی کی جائے تاکہ دہشت گردی کے بیانیے کی ہر سطح پر بیخ کنی ہو سکے۔

قوم کا سوال ایک ہی ہے: کب تک چپ رہا جائے؟

پاکستانی عوام، سول سوسائٹی اور سیکیورٹی ماہرین سب ایک ہی سوال دہرا رہے ہیں:

“آخر کب تک ایسے گروہوں کو فائدہ پہنچانے والی خاموشی برداشت کی جائے گی؟ کب تک دہشت گردی کے فکری سہولت کاروں کو ‘نظر انداز’ کیا جاتا رہے گا؟”

The post کب تک مصلحت؟ سپاہِ صحابہ اور اورنگزیب فاروقی کے انتہا پسندانہ بیانیے پر ریاستی خاموشی سوالیہ نشان appeared first on شیعہ نیوز پاکستان.

​ 

spot_imgspot_img