شیعہ نیوز : شام میں بنو امیہ کے شہزادے جولانی کی قیادت کو ایک سال مکمل ہوگیا، مگر اس ایک سال میں شام کو جو ملا وہ تباہی، انتشار اور کمزور ہوتی ہوئی خودمختاری کے علاوہ کچھ نہیں۔
مبصرین کے مطابق جولانی نے شام کو ایک ایسی پالیسی کے حوالے کیا جہاں اسرائیل کی کھلی جارحیت پر اس کی جانب سے مسلسل خاموشی نے پورا خطے کو حیران کر دیا۔
جب بھی اسرائیل چاہے بمباری کر دیتا ہے اور جولانی جسے مقامی لوگ طنزیہ طور پر “اسرائیلی شہزادہ” کہنے لگے ہیں،خاموشی کو بہترین حکمتِ عملی سمجھتے ہوئے چپ سادھ لیتا ہے۔
جولانی کی اس ایک سالہ کارکردگی میں نہ شام کے عوام کو تحفظ ملا، نہ استحکام، نہ کوئی سیاسی سمت۔ اس کے برعکس، اسرائیل نے اپنی عسکری حکمتِ عملی کو بغیر کسی مزاحمت کے آگے بڑھایا اور شام مزید کمزور ہوتا چلا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: سندھ پولیس کے افسر کی ایک انتہا پسند شخصیت سے ملاقات،ریاستی اداروں کے لیے خطرناک پیغام
سیاسی تجزیہ کار کہتے ہیں کہ جولانی نے اپنے کردار سے خطے میں طاقت کے توازن کو یکطرفہ بنا دیا، جس کا فائدہ صرف اسرائیل کو ہوا۔
شامی عوام اس “قیادت” سے پہلے ہی تنگ تھے، اب ایک سال مکمل ہونے کے بعد یہ تاثر مزید گہرا ہوگیا ہے کہ جولانی اپنی بقا کی جنگ میں مصروف ہے جبکہ ریاست اور عوام کو بے یار و مددگار چھوڑ دیا ہے۔
شامی عوام سوال کرنے میں حق بجانب ہیں:آخر جولانی کی خاموشی کس کے مفاد میں ہے؟
کیا یہ قیادت ہے یا زبردستی مسلط کی گئی بے عملی؟
کیا شام کو مزید کھوکھلا کرنے کا منصوبہ اسی طرح خاموشی سے جاری رہے گا؟
ایک سال مکمل ہوا، نتائج صفر—اور فائدہ صرف ایک ملک کو ہوا اور وہ ہے اسرائیل۔
The post دہشت گردی جولانی کا ایک سال مکمل ، “اسرائیلی شہزادہ” خاموش تماشائی بن کر رہ گیا appeared first on شیعہ نیوز پاکستان.


