شیعہ نیوز : پاکستان کے صوبے خیبر پختونخوا کے ضلع کرم میں سکیورٹی فورسز کی ایک چوکی پر عسکریت پسندوں کے حملے میں چھ پاکستانی فوجی شہید ہو گئے۔
سکیورٹی ذرائع نے منگل کے روز برطانوی خبر رساں ادارے روئٹرز کو بتایا کہ یہ حملہ پیر کی رات اور منگل کی صبح کے درمیان سابق قبائلی ضلع کرم میں ہوا، جو افغانستان کی سرحد کے قریب واقع ہے۔
یہ تازہ حملہ پاکستان میں جاری تشدد کی اس لہر کا حصہ ہے، جس میں کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کی جانب سے حالیہ مہنیوں میں مختلف مقامات خاص طور پر صوبہ خیبر پختونخوا میں سکیورٹی فورسز کو نشانہ بنایا گیا ہے۔
پولیس اور سکیورٹی ذرائع نے روئٹرز کو بتایا کہ یہ حملہ پیر کی رات اور منگل کی صبح کے درمیان قبائلی ضلع کرم میں ہوا، جو افغانستان کی سرحد کے قریب واقع ہے۔ ضلع کرم فرقہ وارانہ فساد کی وجہ سے بھی ایک حساس علاقہ ہے۔
یہ بھی پرھیں : اسرائیلی وزیر پھانسی کے پھندے کی علامت کے ساتھ پارلیمنٹ کے اجلاس میں شریک
سکیورٹی فورسز پر یہ تازہ حملہ ایک ایسے موقع پر کیا گیا ہے، جب پیر کے روز پاکستان کے نئے چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر کو گارڈ آف آنر پیش کیا گیا۔
اس موقع پر اپنے خطاب میں انہوں نے افغان طالبان کو مخاطب کرتے ہوئے کہا تھا کہ انہیں عسکریت پسندوں یا پاکستان میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنا ہو گا۔
خیال رہے کہ پاکستان اور افغانستان کے مابین اکتوبر میں سرحدی جھڑپوں کے بعد سے حالات کشیدہ ہیں، جن میں دونوں جانب سے ستر سے زائد افراد مارے گئے تھے۔
اس کے بعد سے دونوں ممالک کے مابین قطر میں ہونے والے مذاکرات کے نتیجے میں فائر بندی تو ہو گئی تھی تاہم دونوں جانب سے ایک دوسرے پر سیز فائر کی خلاف ورزیوں کے الزامات لگائے جاتے رہے ہیں۔
پاکستانی حکام افغان طالبان پر ٹی ٹی پی کے شدت پسندوں کو پناہ دینے اور ان کی مدد کے الزامات عائد کرتے ہیں، تاہم طالبان ان الزامات کی تردید کرتے آئے ہیں۔
The post ضلع کرم میں عسکریت پسندوں کا حملہ، چھ فوجی شہید appeared first on شیعہ نیوز پاکستان.


