شیعہ نیوز: امریکی ایما پر بظاہر جنگ رکنے کے باوجود اسرائیلی فوج کے ریزرو اہلکاروں کی معاشی حالت روز بروز بدتر ہوتی جا رہی ہے، جس کا اندازہ ریزرو فوجیوں کی جانب سے قرضوں کی درخواستوں میں نمایاں اضافے سے لگایا جا سکتا ہے۔ صہیونی رجیم کے چینل 12 ٹیلی ویژن کے اطلاعاتی پورٹل نے پیر کے روز شائع ہونے والی ایک رپورٹ میں اعتراف کیا ہے کہ اسرائیل میں اس وقت 8 لاکھ 67 ہزار 256 خاندان غذائی عدم تحفظ کا شکار ہیں، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں 27.5 فیصد اضافہ ظاہر کرتا ہے۔
اسرائیل میں غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزارنے والے بچوں کی تعداد میں بھی 10 فیصد اضافہ ہوا ہے اور یہ تعداد بڑھ کر 11 لاکھ 82 ہزار 375 بچوں تک پہنچ چکی ہے۔ اسی طرح، 2025 کے اختتام تک غربت کی لکیر سے نیچے آنے والے اسرائیلی شہریوں کی مجموعی تعداد 28 لاکھ 5 ہزار 861 سے تجاوز کر چکی ہے۔ رپورٹ کے مطابق اس صورتحال کی ایک اہم وجہ اسرائیلی فوج میں ریزرو سروس کے دائرہ کار میں توسیع ہے، جبکہ جنگ کے اثرات کے نتیجے میں ویلیو ایڈڈ ٹیکس میں اضافہ بھی عوام پر اضافی بوجھ بن گیا ہے۔
چینل 12 کی رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ اسرائیل میں کیے گئے سروے کے مطابق، ریزرو فوجیوں خصوصاً ان افراد کی جانب سے قرض کی درخواستوں میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے جنہیں بینکاری نظام سے قرض حاصل کرنے میں مشکلات کا سامنا ہے۔ گزشتہ سال اکتوبر اور نومبر کے مہینوں میں سماجی مالیاتی ادارے اوگن کو موصول ہونے والی قرض کی درخواستیں سال کے پہلے نصف کے مقابلے میں 67 فیصد بڑھ گئیں، جبکہ جولائی تا ستمبر کے عرصے کے مقابلے میں یہ اضافہ 20 فیصد سے بھی زیادہ رہا۔
اوگن کے چیف ایگزیکٹو آفیسر نے اس حوالے سے کہا کہ یہ لوگ جب گھروں کو لوٹتے ہیں تو انہیں جنگ کے تباہ کن معاشی نتائج کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ چینل 12 کے مطابق، جنگ بندی کے باوجود ریزرو فوجیوں کے معاشی مسائل مزید سنگین ہوتے جا رہے ہیں۔ اوگن کے تازہ اعداد و شمار، جو پہلی بار میڈیا میں سامنے آئے ہیں، یہ ظاہر کرتے ہیں کہ اکتوبر اور نومبر میں ریزرو فوجیوں اور ان کے خاندانوں کی جانب سے قرض کی درخواستوں میں سال کے ابتدائی مہینوں کے اوسط کے مقابلے میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔
اوگن کے مطابق صرف نومبر میں ریزرو فوجیوں کی جانب سے 344 امدادی درخواستیں موصول ہوئیں، جبکہ اکتوبر میں یہ تعداد 345 تھی۔ یہ اعداد و شمار جنوری سے جون تک کے ماہانہ اوسط کے مقابلے میں 67 فیصد اضافے کی نشاندہی کرتے ہیں۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ صرف درخواستوں کی تعداد ہی نہیں بڑھی بلکہ ان کا حجم بھی بڑھ گیا ہے۔ گزشتہ دو ماہ کے دوران ریزرو فوجیوں کی جانب سے موصول ہونے والی قرض کی درخواستیں مجموعی طور پر ماہانہ تقریباً ایک کروڑ 56 لاکھ شیکل تک پہنچ چکی ہیں۔
یہ رقم رواں سال جنوری تا مارچ کے اوسط کے مقابلے میں 71 فیصد اور اپریل تا جون کے عرصے کے مقابلے میں 68 فیصد اضافے کو ظاہر کرتی ہے۔ یہ اعداد و شمار سال کے تیسرے سہ ماہی کے مقابلے میں بھی زیادہ ہیں، حالانکہ اس دوران بھی سال کے پہلے نصف کے مقابلے میں قرض کی طلب میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا تھا۔ اوگن کا اندازہ ہے کہ تیسرے سہ ماہی سے شروع ہونے والا قرض کی طلب میں اضافہ، ان مہینوں میں جنگ کے تسلسل کا نتیجہ تھا، جب دسیوں ہزار ریزرو فوجیوں کو غزہ شہر میں زمینی کارروائیوں اور 12 روزہ جنگ کے لیے دوبارہ طلب کیا گیا۔
تاہم، جنگ بندی کے پہلے مرحلے کے نفاذ کے بعد بھی ریزرو فوجیوں کی جانب سے قرض کی طلب میں اضافہ جاری رہا، جسے اوگن اسرائیل میں معاشی صورتحال کے مزید بگاڑ کی علامت قرار دیتا ہے۔ اوگن کے چیف ایگزیکٹو ساجی بلشا کا کہنا ہے کہ جب بہت سے ریزرو فوجی جنگ کے بعد گھروں کو لوٹتے ہیں تو انہیں شدید مالی بحران کا سامنا کرنا پڑتا ہے، جو طویل فوجی خدمت کے باعث خاندان پر چڑھنے والے نئے قرضوں کی صورت میں ظاہر ہوتا ہے۔
رپورٹ کے مطابق اگر بروقت مدد نہ کی گئی تو خدشہ ہے کہ ان میں سے کم از کم کچھ خاندان طویل المدتی معاشی عدم استحکام کا شکار ہو جائیں گے۔ اسرائیلی معاشرے کے ماہرین کا ماننا ہے کہ جنگ کے معاشی اثرات دو سے تین سال تک محسوس کیے جاتے رہیں گے۔ اوگن کے نجی شعبے کے ڈائریکٹر یوئل کوپلینڈ اس حوالے سے کہتے ہیں کہ دو سالہ جنگ کے دوران ریزرو فوجیوں کے خاندانوں کو پہنچنے والے معاشی نقصانات محض جنگ بندی کے اعلان سے ختم نہیں ہو جاتے۔
رپورٹ کے مطابق وہ ریزرو فوجی جن کا کاروبار بند ہو گیا یا جو ملازمت سے فارغ کر دیے گئے، انہیں آمدنی کا نیا ذریعہ تلاش کرنا پڑتا ہے، جو ہمیشہ آسان نہیں ہوتا، خاص طور پر اس صورتحال میں کہ آئندہ برسوں میں بھی ہر سال دسیوں دنوں کے لیے ریزرو سروس کے لیے بلائے جانے کا امکان موجود ہے۔ یہی صورتحال ان ریزرو فوجیوں کے شریکِ حیات کے ساتھ بھی پیش آتی ہے جنہیں یا تو ملازمت سے نکال دیا گیا یا گھریلو اخراجات کے دباؤ کے باعث کام کے اوقات کم کرنا پڑے۔
کوپلینڈ نے جنگ کے دیگر اثرات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ریزرو فوجیوں پر پڑنے والا مالی بوجھ شدید لڑائیوں کے خاتمے کے بعد بھی ختم نہیں ہوتا بلکہ بعض صورتوں میں مزید بڑھ جاتا ہے۔ مثال کے طور پر وہ ریزرو فوجی جو جسمانی یا نفسیاتی طور پر زخمی ہو جاتے ہیں، انہیں طویل علاج کے باعث اضافی مالی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے، جس کے نتیجے میں کئی خاندان ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو جاتے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ اب جب ریزرو فوجی گھروں کو واپس آ چکے ہیں تو وہ اپنے جمع شدہ قرضوں سے نمٹنے کی کوشش کر رہے ہیں، لیکن ماضی کی جنگوں اور فوجی آپریشنز کے تجربات بتاتے ہیں کہ یہ صرف آغاز ہے۔ پہلے مرحلے میں ریزرو فوجی اور ان کے خاندان محض بقا پر توجہ دیتے ہیں، دوسرے مرحلے میں وہ خاندان کے ساتھ ضائع ہونے والے وقت کی تلافی پر سرمایہ خرچ کرتے ہیں، اور اصل مالی بحران تیسرے مرحلے میں پوری شدت سے سامنے آتا ہے، جو دو سے تین سال تک جاری رہ سکتا ہے۔
The post 8 لاکھ 67 ہزار 256 اسرائیلی خاندان غذائی عدم تحفظ کا شکار appeared first on شیعہ نیوز پاکستان.


