شیعہ نیوز: نیپال میں فرقہ وارانہ کشیدگی اور مسجد میں توڑپھوڑ کے بعد بیرگنج شہر میں کرفیو نافذ کردیا گیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق نیپال کے مدھیش صوبے کے جنوبی دھنوشا ضلع میں ہفتے کے روز ایک مسجد میں توڑ پھوڑ کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد نیپال کے مسلمانوں نے اتوار کو بیرگنج میں احتجاجی مظاہرہ کیا اور نعرے لگائے۔ دھنوشا ضلع کی کملہ میونسپلٹی اور مدھیش صوبے کے دیگر حصوں میں بھی احتجاج دیکھنے کو ملا۔
اس کے بعد ممکنہ فرقہ وارانہ جھڑپوں کو روکنے کے لیے پرسا ضلع کی مقامی انتظامیہ نے پیر کے روز ہندوستان کی رکسول سرحد سے متصل بیرگنج شہر کے کچھ حصوں میں کرفیو نافذ کر دیا۔
یہ بھی پڑھیں : اقوام متحدہ کو وینزویلا پر امریکی حملے میں بین الاقوامی قوانین کی پاسداری میں ناکامی پر تشویش
پولیس نے بتایا کہ پورا تنازعہ، بقول اس کے، ایک ٹک ٹاک ویڈیو سے شروع ہوا، جس میں دو مسلم نوجوان مبینہ طور پر ہندوؤں کے بارے میں نازیبا باتیں کرتے دکھائی دیئے۔ اس بات سے ناراض ہندوؤں کے ایک گروہ نے دھنوشا میں ایک مسجد میں توڑ پھوڑ کی اور آگ لگا دی۔ اس درمیان قرآن مجید کے ایک نسخے کو بھی نذر آتش کردیا گیا۔
ہندو برادری کی جانب سے کیے گئے اس عمل کے بعد اتوار سے مسلم برادری کے احتجاج میں مزید شدت آگئی۔ بعد ازاں پرسا ضلع انتظامیہ نے پیر کے روز بیرگنج شہر کے کچھ علاقوں میں کرفیو لگادیا اور ہر قسم کے میلے، عوامی اجتماع، جلوس اور احتجاج پر پابندی عائد کر دی گئی۔ یہ حکم پیر دوپہر ایک بجے سے نافذ کیا گیا اور اگلے احکامات تک جاری رہے گا۔
اس حکم میں کہا گیا ہے کہ ’’جو کوئی بھی اس حکم کی خلاف ورزی کرتا پایا گیا، اسے تحویل میں لے لیا جائے گا اور قانون کے مطابق اس کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔‘‘
The post نیپال: مسجد میں توڑ پھوڑ اور قرآن سوزی کے بعد بیرگنج شہر میں کرفیو نافذ appeared first on شیعہ نیوز پاکستان.


