شیعہ نیوز: امریکی صدر ٹرمپ نے ایک حکم نامے پر دستخط کر کے امریکہ کو 35 غیر وابستہ اداروں اور اقوامِ متحدہ سے وابستہ 31 اداروں سے الگ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
خبر رساں ادارے تسنیم کے بین الاقوامی گروپ کی رپورٹ کے مطابق امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک انتظامی حکم نامے پر دستخط کیے ہیں جس کے تحت 66 بین الاقوامی تنظیموں، ایجنسیوں اور کمیشنوں کی امریکی حمایت ختم کر دی گئی ہے۔
اس اقدام کے نتیجے میں امریکہ کو متعدد عالمی اداروں کے ساتھ تعاون سے روک دیا جائے گا۔ اس حکم کے مطابق، امریکہ اقوامِ متحدہ سے غیر وابستہ 35 اداروں اور اقوامِ متحدہ کے تحت کام کرنے والے 31 اداروں سے دستبردار ہو جائے گا۔
سی این این کے مطابق یہ حکم امریکہ کی جانب سے بین الاقوامی تنظیموں میں شرکت اور مالی امداد کے جائزے کے بعد جاری کیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں : امریکہ، امیگریشن پولیس کے ہاتھوں ایک خاتون کے مارے جانے کے بعد احتجاج شروع
امریکی حکام کا کہنا ہے کہ یہ ادارے غیر ضروری، غیر مؤثر یا امریکی مفادات کے خلاف کام کر رہے ہیں۔ ان میں سے بیشتر ادارے ماحولیاتی تبدیلی، مزدوروں کے مسائل اور ایسے موضوعات سے متعلق ہیں جنہیں ٹرمپ انتظامیہ غیر اہم یا نقصان دہ سمجھتی ہے۔ جن اہم اداروں سے امریکہ علیحدہ ہو رہا ہے، ان میں اقوامِ متحدہ کا ادارہ برائے آبادی اور ماحولیاتی تبدیلی سے متعلق اقوامِ متحدہ کا فریم ورک کنونشن شامل ہیں، جو عالمی سطح پر ماحولیاتی مذاکرات کی بنیاد سمجھا جاتا ہے۔
ٹرمپ انتظامیہ نے ان اداروں پر بدانتظامی، وسائل کے ضیاع اور ایسی پالیسیوں کے فروغ کا الزام عائد کیا ہے جو امریکی مفادات سے ہم آہنگ نہیں۔ ٹرمپ اس سے قبل بھی ماحولیاتی تبدیلی کو سنجیدہ مسئلہ تسلیم کرنے سے انکار کرتے رہے ہیں اور امریکہ کو پیرس معاہدے سے بھی نکال چکے ہیں۔ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ ٹیکس دہندگان کا پیسہ صرف ایسے اداروں پر خرچ ہونا چاہیے جو براہِ راست امریکہ کے مفاد میں ہوں، مثلاً وہ تنظیمیں جو چین کے مقابلے میں کردار ادا کرتی ہیں۔ اس فیصلے کے عالمی کوششوں پر گہرے اثرات مرتب ہوں گے۔ ماہرین کے مطابق، امریکہ کے بغیر، جو دنیا کی بڑی معیشتوں میں سے ایک اور گرین ہاؤس گیسوں کے بڑے اخراج کنندگان میں شامل ہے۔
ماحولیاتی تبدیلی جیسے مشترکہ عالمی مسائل پر پیش رفت مزید مشکل ہو جائے گی۔ اس کے نتیجے میں اقوامِ متحدہ کو بھی بجٹ میں کمی کے باعث اپنے پروگرام محدود کرنا پڑ سکتے ہیں۔ سی این این نے لکھا ہے کہ یہ اقدام امریکی مفادات پر زیادہ توجہ دینے کی ٹرمپ کی پالیسی کا تسلسل ہے۔ اس سے قبل بھی امریکہ عالمی ادارۂ صحت، فلسطینی پناہ گزینوں کے لیے امدادی ایجنسی، اقوامِ متحدہ کی انسانی حقوق کونسل اور اقوامِ متحدہ کے تعلیمی، سائنسی و ثقافتی ادارے (یونیسکو) سے علیحدگی اختیار کر چکا ہے۔ رپورٹ کے مطابق، ماہرین کا خیال ہے کہ یہ پسپائی چین جیسے ممالک کو عالمی اداروں میں زیادہ اثر و رسوخ حاصل کرنے کا موقع دے سکتی ہے۔ یہ حکم نامہ امریکی خارجہ پالیسی میں ایک نمایاں تبدیلی کی علامت ہے اور طویل مدت تک دیگر ممالک کے ساتھ تعلقات پر اثر انداز ہو سکتا ہے۔
The post امریکہ کی 66 بین الاقوامی تنظیموں، ایجنسیوں اور کمیشنوں سے علیحدگی appeared first on شیعہ نیوز پاکستان.


