تحریر: سید انجم رضا
عہدِ حاضر کی سیاست میں سب سے مؤثر ہتھیار بیانیہ ہے۔ جب طاقتور حلقے کسی عوامی مطالبے یا مزاحمتی آواز کو کمزور کرنا چاہتے ہیں تو وہ اس کے جوہر پر حملہ کرنے کے بجائے اسے کسی منفی، خوفناک یا بدنام مثال کے ساتھ جوڑ دیتے ہیں۔ ایران میں انقلابِ اسلامی کے خلاف فسادی عناصر کی فتنہ پردازی اور پاکستان میں آئین کی بحالی کی تحریک کو ایک جیسا قرار دینا بھی اسی بیانیاتی فریب کا حصہ ہے۔ یہ تقابل نہ صرف تاریخی، قانونی اور اخلاقی طور پر غلط ہے بلکہ شعوری طور پر عوام کو گمراہ کرنے کی کوشش بھی ہے۔
تحریکوں کی فکری اور نظریاتی بنیاد
ایران میں انقلابِ اسلامی محض ایک سیاسی نظام نہیں بلکہ ایک نظریاتی ریاستی ماڈل ہے جو سامراجی غلبے، صیہونی توسیع پسندی اور عالمی استکبار کے خلاف مزاحمت کی علامت سمجھا جاتا ہے۔ چنانچہ ایران میں جن سرگرمیوں کو احتجاج کے نام پر پیش کیا جاتا ہے، ان میں سے کئی کا ہدف اصلاح یا عوامی حقوق نہیں بلکہ براہِ راست انقلابِ اسلامی کی فکری اساس، مذہبی تشخص اور ریاستی خودمختاری کو کمزور کرنا ہوتا ہے۔
یہی وجہ ہے کہ ان سرگرمیوں میں نظام کی نفی، اداروں سے تصادم، اور قومی وحدت کو نقصان پہنچانے والے عناصر نمایاں نظر آتے ہیں جسے بجا طور پر فتنہ کہا جاتا ہے۔ اس کے برعکس پاکستان میں آئین کی بحالی کی تحریک کسی نظریاتی ریاست کو گرانے یا نظام کو منہدم کرنے کی کوشش نہیں بلکہ ریاست کو اس کے آئینی راستے پر واپس لانے کی جدوجہد ہے۔ آئین پاکستان عوام اور ریاست کے درمیان ایک عمرانی معاہدہ ہے۔ اس معاہدے کی پاسداری کا مطالبہ ریاست دشمنی نہیں بلکہ ریاست دوستی کی اعلیٰ ترین شکل ہے۔
قانونی حیثیت اور طریقِ کار
ایران میں فسادی عناصر کی سرگرمیاں اکثر تشدد، جلاؤ گھیراؤ، سرکاری و عوامی املاک کی تباہی، مذہبی علامات کی توہین اور خوف و ہراس پھیلانے کی صورت اختیار کر لیتی ہیں۔ ایسی کارروائیاں کسی بھی ملک کے قانونی نظام میں جرم تصور کی جاتی ہیں، چاہے وہ کسی بھی نعرے یا عنوان کے تحت کیوں نہ ہوں۔ پاکستان میں آئین کی بحالی کی تحریک کی شناخت پرامن احتجاج، عدالتی راستوں، سیاسی مکالمے اور عوامی رائے سے ہوتی ہے۔ یہاں اصل سوال تشدد یا انتشار نہیں بلکہ آئینی انحراف، اختیارات کے غیر متوازن استعمال اور جمہوری عمل کی معطلی کا ہے۔ اس تحریک کا مرکزی نکتہ یہی ہے کہ طاقت آئین کے تابع ہو، نہ کہ آئین طاقت کے تابع۔
بیرونی مداخلت اور عالمی تناظر
ایران کے خلاف فتنہ پردازی کو عالمی سیاست کے تناظر سے الگ کر کے نہیں دیکھا جا سکتا۔ معاشی پابندیاں، میڈیا وار، نفسیاتی دباؤ، سائبر حملے اور خفیہ آپریشنز ایک طویل المدت حکمتِ عملی کا حصہ رہے ہیں، جن کا مقصد ایران کو اندر سے غیر مستحکم کرنا ہے۔ اس پس منظر میں ایران کے فسادات محض داخلی ردِعمل نہیں بلکہ اکثر اوقات بین الاقوامی جیو پولیٹیکل منصوبہ بندی کا تسلسل دکھائی دیتے ہیں۔ پاکستان میں آئین کی بحالی کی تحریک کو بیرونی سازش قرار دینا حقائق سے فرار کے مترادف ہے۔ یہ تحریک بنیادی طور پر داخلی آئینی بحران، سیاسی عدم توازن اور عوامی مینڈیٹ کی نفی کے خلاف پیدا ہوئی۔ اسے عالمی ایجنڈوں سے جوڑنا اصل مسئلے پر پردہ ڈالنے کی کوشش ہے۔
ریاست سے تعلق: تصادم یا اصلاح؟
ایران میں فسادی عناصر کا ریاست سے تعلق اکثر تصادمی ہوتا ہے۔ وہ ریاستی اداروں کو دشمن سمجھتے اور نظام کی بنیادیں ہلانے کی کوشش کرتے ہیں۔ اس کے برعکس پاکستان میں آئین کی بحالی کی تحریک ریاست کو دشمن نہیں بلکہ اپنے ہی آئین سے دور ہوتی ہوئی ریاست سمجھتی ہے—جسے درست راستے پر لانے کی بات کی جاتی ہے، گرانے کی نہیں۔
گمراہ کن تقابل کے مضمرات
ان دونوں تحریکوں کو ایک جیسا کہنا دراصل آئینی جدوجہد کو بدنام کرنے، عوامی حقوق کے مطالبے کو فتنہ ثابت کرنے اور غیر آئینی طرزِ حکمرانی کو جواز فراہم کرنے کی کوشش ہے۔ یہ تقابل حق و باطل، اصلاح و تخریب، اور مزاحمت و انتشار کے درمیان فرق کو مٹا دیتا ہے۔ بات سمجھنے کی یہ ہے کہ ہر احتجاج، ہر تحریک اور ہر عوامی ردِعمل ایک جیسا نہیں ہوتا۔ اصل سوال یہ نہیں کہ لوگ سڑکوں پر کیوں نکلے، بلکہ یہ ہے کہ کس مقصد کے لیے، کس طریقے سے اور کن قوتوں کے زیرِ اثر نکلے۔
ایران میں انقلابِ اسلامی کے خلاف فسادی عناصر کی فتنہ پردازی اور پاکستان میں آئین کی بحالی کی تحریک کو ایک ترازو میں تولنا نہ صرف علمی بددیانتی ہے بلکہ عوامی شعور کے ساتھ سنگین ناانصافی بھی۔ تاریخ بتاتی ہے کہ قومیں اسی وقت آگے بڑھتی ہیں جب وہ حقائق کو تقابل کی دھند میں نہیں، بلکہ سچ کی روشنی میں دیکھنے کی جرأت رکھتی ہوں۔
The post ایران میں انقلابِ اسلامی کے خلاف فتنہ پردازی اور پاکستان میں آئین کی بحالی تحریک appeared first on شیعہ نیوز پاکستان.


