شیعہ نیوز: وفاق المدارس الشیعہ پاکستان کے صدر علامہ حافظ سید ریاض حسین نجفی نے کہا ہے کہ حضرت حوا کا ہر اس جگہ قرآن میں تذکرہ ہوا ہے، جہاں حضرت آدم علیہ السلام کا ہوا، وہ بڑی باعظمت خاتون تھیں۔ اگر حوا نہ ہوتیں تو آج ہم میں سے کوئی بھی نہ ہوتا۔ جامع علی مسجد حوزہ علمیہ جامعتہ المنتظر ماڈل ٹاون میں خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ حضرت سیدہ فاطمہ الزہرا ؑوہ واحد خاتون ہیں جن کے استقبال کے لیے پیغمبر جیسے باپ تعظیم میں کھڑے ہو جاتے تھے اور یہ کھڑا ہونا اتنا خاص تھا کہ ہمارے لیے اس سنت پر عمل کرنا ضروری نہیں کہ ہم اپنی بیٹیوں کی تعظیم کے لیے کھڑے ہوں بلکہ یہ خاص جناب سیدہ کے لیے ہے، آیت تطہیر کے نزول کے بعد مسلسل چھ مہینے پاک پیغمبر حضرت فاطمہ ؑ کے دروازے پر رک کر آیت تطہیر کی تلاوت فرماتے تھے۔
انہوں نے کہا کہ بی بی زہرا کی عظمت اس وجہ سے ہے کہ ٓاپ مقدمہ بنیں کربلا کیلئے، اسلام کربلا کے بعد زندہ ہوا یعنی اس کی نشاط ثانیہ کربلا کے بعد شروع ہوئی ہوئی۔ ان کا کہنا تھا کہ جناب آسیہ کا بھی قرآن مجید میں نام نہیں آیا، لیکن تذکرہ بہت ہوا ہے چاہے وہ فرعون کے گھر میں تھیں لیکن اتنی باعظمت تھیں کہ حضرت موسیٰ کی پرورش جناب آسیہ نے کی۔ حضرت مریم واحد خاتون ہیں جن کا قرآن مجید میں نام کے ساتھ ذکر ہوا ہے، اپ بھی اتنی باعظمت ہیں کہ ٓاپ کے بیٹے نے پیدائش کے چند دن بعد دعویٰ نبوت کر دیا۔ حضرت خدیجہ الکبریٰ کا بھی قرآن مجید میں قرائن کے ساتھ تذکرہ موجود ہے ،اس بات پر بھی سب متفق ہیں کہ خدیجہ اس وقت کی طاہرہ خاتون تھیں۔
The post حضرت بی بی فاطمہ الزہراؑ کربلا کا مقدمہ بنیں، علامہ ریاض نجفی appeared first on شیعہ نیوز پاکستان.


