spot_img

ذات صلة

جمع

شہید ضیاء الدین کے قاتلوں کی عدم گرفتاری ریاستی نظام عدل پر سوالیہ نشان ہے، انجمن امامیہ

شیعہ نیوز: مرکزی انجمن امامیہ گلگت بلتستان کی جانب سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ 8 جنوری 2005ء ملتِ تشیع کے لیے ایک ایسا سیاہ ترین دن ہے جسے کبھی فراموش نہیں کیا جا سکتا۔ اس روز ہمارےعظیم رہنما، شہید قائد سید ضیاء الدین رضوی اپنے رفقاء کے ہمراہ مرکزی امامیہ جامع مسجد میں نمازِ ظہرین کی ادائیگی کے لیے آ رہے تھے کہ گھات لگائے بیٹھے دہشت گردوں نے ان کی گاڑی پر اندھا دھند فائرنگ کر دی۔ اس بزدلانہ حملے کے نتیجے میں شہید قائد سید ضیاء الدین رضوی اپنے ساتھیوں سمیت شدید زخمی ہو گئے۔ اسی حملے میں ان کے جانثار ساتھی حسین اکبر اور عباس علی موقع پر ہی جامِ شہادت نوش کر گئے، جبکہ شہید قائد سید ضیاء الدین رضوی اور ان کے ایک اور ساتھی تنویر حسین شدید زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے 13 جنوری 2005ء کو شہادت کے عظیم مرتبے پر فائز ہو گئے۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ افسوسناک امر یہ ہے کہ اتنے سال گزر جانے کے باوجود یہ ہائی پروفائل کیس آج تک حل نہ ہو سکا۔ نہ تو اس المناک واقعے کے اصل محرکات سامنے آ سکے، نہ ہی یہ معلوم ہو سکا کہ یہ گھناؤنا فعل کس نے اور کیوں کروایا۔ سب سے زیادہ تکلیف دہ پہلو یہ ہے کہ ایک عظیم رہنما اور ملت کے سچے قائد کے قاتل آج بھی آزاد گھوم رہے ہیں اور قانون کی گرفت سے باہر ہیں۔ بیان میں کہا گیا کہ یہ حقیقت کسی سے پوشیدہ نہیں کہ شہید قائد سید ضیاء الدین رضوی ملتِ تشیع کے ایک مخلص، باوقار اور دور اندیش رہنما تھے، جنہوں نے ہمیشہ امن، اتحاد اور حق کی بات کی۔ ان کے قاتلوں کی عدم گرفتاری نہ صرف ان کے اہلِ خانہ بلکہ پوری ملتِ تشیع کے ساتھ کھلی زیادتی اور سنگین ناانصافی ہے۔ اس کیس کے حوالے سے اعلیٰ حکام سے بارہا مذاکرات کے بعد انہوں نے یقین دہانی کرائی تھی کہ مجرموں کو قانون کی گرفت میں لا کر کیفر کردار تک پہنچایا جائے گا، لیکن تاحال کوئی موثر کاروائی دیکھنے میں نہیں آئی۔

مزید کہا گیا کہ اس عظیم سانحے کو اکیس سال گزر چکے ہیں، مگر انصاف کی عدم فراہمی کے باعث عوام میں شدید مایوسی، اضطراب اور بے چینی پائی جاتی ہے۔ ریاست کی یہ بنیادی ذمہ داری ہے کہ وہ شہریوں کی جان و مال کا تحفظ کرے اور ایسے سفاک جرائم میں ملوث عناصر کو منطقی انجام تک پہنچائے۔ ہم حکومتِ وقت اور ریاستی اداروں سے پُرزور مطالبہ کرتے ہیں کہ اس المناک واقعے میں ملوث تمام کرداروں کے خلاف موثر، شفاف اور غیر جانبدار تحقیقات کی جائیں، قاتلوں کو فوری طور پر گرفتار کیا جائے اور انہیں قانون کے مطابق قرار واقعی سزا دی جائے، تاکہ شہداء کے لواحقین اور پوری ملت کو انصاف مل سکے۔ انصاف میں تاخیر، انصاف سے انکار کے مترادف ہے۔ اگر آج بھی اس کیس کو منطقی انجام تک نہ پہنچایا گیا تو یہ ریاستی نظامِ انصاف پر ایک بڑا سوالیہ نشان ہو گا۔ شہداء کا خون ہم سے انصاف کا تقاضا کرتا ہے۔

The post شہید ضیاء الدین کے قاتلوں کی عدم گرفتاری ریاستی نظام عدل پر سوالیہ نشان ہے، انجمن امامیہ appeared first on شیعہ نیوز پاکستان.

​ 

spot_imgspot_img