تحریر: ڈاکٹر سعید طالبی نیا
ڈائریکٹر جنرل، خانۂ فرهنگِ اسلامی جمہوریۂ ایران، کراچی
اسلامی جمہوریہ ایران، امتِ مسلمہ بالخصوص مظلوم فلسطینی اور غزہ کے عوام کے دفاع اور اپنی خودمختاری کی پالیسی کی وجہ سے ہمیشہ دشمنانِ اسلام اور عالمی صہیونیت کی بغض و عناد کا نشانہ رہا ہے۔ امریکا، اسرائیل، نیٹو اور خطے کے بعض غدار ممالک، غیر معمولی اتحاد کے باوجود بارہ روزہ جنگ میں اسلامی جمہوریہ ایران کو شکست دینے اور ایرانی عوام کو اپنے اسلامی نظام کے خلاف بھڑکانے میں ناکام رہے۔ اسی ناکامی کے بعد وہ کسی مناسب موقع کی تلاش میں تھے، تاکہ اپنی عداوت ظاہر کریں اور اپنے شیطانی مقاصد حاصل کر سکیں۔ گزشتہ دو ہفتوں کے دوران ایران میں زرِ مبادلہ کی قیمت اور بعض اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافے کے باعث عوام کے ایک محدود طبقے جو ایران کی مجموعی آبادی کے ایک فیصد سے بھی کم تھا، نے اپنے احتجاج کے اظہار کیلئے سڑکوں کا رخ کیا۔
اسلامی جمہوریہ ایران کے نظام نے احتجاج کو اپنے شہریوں کا جائز اور قانونی حق تسلیم کیا اور اس پر کسی قسم کی پابندی یا مزاحمت نہیں کی، تاہم اسرائیل سے وابستہ تربیت یافتہ دہشتگردوں اور غدار عناصر کے ایک گروہ نے، جو غیر ملکی ہدایات پر عمل کر رہے تھے، چند افراد پر مشتمل ٹولیوں کی صورت میں عوامی احتجاج میں دراندازی کی۔ انہوں نے مظاہرین کو اشتعال دلایا اور تمام بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے سرکاری و عوامی املاک کو نقصان پہنچایا، اسپتالوں اور ایمبولینسوں پر حملے کیے، مساجد، مذہبی مراکز، قرآنِ مجید، بینکوں، فائر اسٹیشنز کو نذرِ آتش کیا، نیز عوام کے گھروں، دکانوں اور نجی گاڑیوں کو تباہ کیا۔ ان عناصر نے جنگی ہتھیاروں سے پولیس پر فائرنگ بھی کی، جس کے نتیجے میں امن و امان برقرار رکھنے والے درجنوں اہلکار اور بے گناہ شہری شہید ہو گئے۔
ان واقعات کے بعد پولیس کی بروقت اور مؤثر کارروائی کے نتیجے میں متعدد مسلح غدار کرائے کے ایجنٹوں، جو دہشتگرد تنظیموں سے وابستگی کا سابقہ رکھتے تھے اور سنگین جرائم میں ملوث تھے، گرفتار کر لیے گئے ہیں، جبکہ دیگر مجرموں اور قاتلوں کی گرفتاری کیلئے کارروائیاں جاری ہیں۔ حالیہ دنوں میں بالخصوص بروز پیر 12 جنوری کو ایران کے عوام نے ملک بھر کے مختلف شہروں خصوصاً تہران، مشہد، اصفہان، شیراز، یزد اور قم میں کروڑوں کی تعداد میں سڑکوں پر نکل کر رہبرِ معظم انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ امام خامنہای (مدظلہ العالی) اور اسلامی جمہوریہ ایران کے نظام کے ساتھ اپنی بھرپور اور غیر متزلزل حمایت کا اظہار کیا۔ ان عوامی مظاہروں نے ثابت کر دیا کہ امریکی صدر اور عالمی صہیونیت کی کھوکھلی دھمکیاں، ایرانی قوم کے استقلال اور آزادی کے عزمِ فولادی کو کمزور نہیں کر سکتیں۔
ایرانی شہریوں کے تحفظ اور سلامتی کو یقینی بنانے کی غرض سے بین الاقوامی مواصلاتی نیٹ ورکس پر عارضی پابندیاں عائد کی گئیں، جنہیں جلد ہی ختم کر دیا جائے گا۔ اس امر پر زور دیا جاتا ہے کہ بی بی سی، سی این این، فاکس نیوز اور اس نوعیت کے دیگر ادارے عالمی استکباری محاذ کے میڈیا ہتھیار ہیں، اور ایران کے محدود داخلی احتجاجات کے بارے میں ان کی رپورٹس عموماً جھوٹ، گمراہ کن اور مبالغہ آرائی پر مبنی ہوتی ہیں۔ ایران کے مسلمان عوام کی اکثریت اپنے رہبر کی حامی ہے اور غیر ملکی مداخلت، امریکہ و اسرائیل سے وابستہ ایجنٹوں، بشمول صہیونیت نواز، غدار اور اسلام دشمن رضا پہلوی، کی سخت مخالف ہے۔ عوام نے ان فتنہ انگیز بدامنیوں کا ساتھ نہیں دیا۔
The post ایران کے داخلی حالات سے متعلق چند نکات appeared first on شیعہ نیوز پاکستان.


