spot_img

ذات صلة

جمع

اسرائیل کی جیلوں میں اسیران کی اذیت ناک صور ت حال کے خاتمے کے لیے عالمی اقدام ناگزیر ہوچا، حماس

شیعہ نیوز: اسلامی مزاحمتی تحریک حماس نے کہا ہے کہ اسرائیل کی فاشسٹ جیلوں میں قید فلسطینی اسیران کو غیر انسانی حالات منظم تشدد اور مسلسل اذیت ناک سلوک کا سامنا ہے اور دنیا سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ فوری طور پر حرکت میں آئے تاکہ اسیران کی حمایت کی جا سکے اور ان کی تکالیف کا خاتمہ ممکن بنایا جا سکے۔

حماس نے پیر کے روز جاری اپنے بیان میں کہا کہ عبرانی میڈیا کی جانب سے دنیا کو دکھائی جانے والی وہ مناظر جن میں صہیونی مجرم دشمن کی جیلوں میں اسیران پر ڈھائی جانے والی سفاکیت نمایاں ہے پورے انسانی ضمیر کے لیے کھلا چیلنج ہیں اور یہ بین الاقوامی قوانین اور معاہدات کی صریح توہین کی بدترین مثال ہے۔

حماس نے زور دے کر کہا کہ آج اسیران محض خلاف ورزیوں کا سامنا نہیں کر رہے بلکہ جیلوں کے اندر ایک مکمل انسانی جرم ان کے خلاف انجام دیا جا رہا ہے۔

بیان میں ہمارے بہادر اسیران کے خلاف جاری غیر انسانی حالات اور وحشیانہ سلوک پر عالمی خاموشی کی شدید مذمت کی گئی بالخصوص ایسے وقت میں جب اسرائیل کے حکام ان کے اہلکار اور ان کے صحافی ان جرائم پر فخر کا اظہار کرتے ہیں جو انسانیت کے ضمیر کو جھنجھوڑنے کے لیے کافی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں : شام میں بڑی پیش رفت: کرد فورسز پیچھے ہٹ گئیں، فوری جنگ بندی کا اعلان

اسرائیل کی جیلوں میں اس وقت 9300 سے زائد فلسطینی اسیران قید ہیں جن میں ہزاروں انتظامی حراست میں رکھے گئے افراد شامل ہیں جن پر نہ کوئی الزام ہے اور نہ ہی کسی عدالت میں مقدمہ چلایا گیا ہے۔ یہ صورت حال انصاف کے بنیادی ترین اصولوں کی کھلی خلاف ورزی ہے۔

حماس نے تصدیق کی کہ فلسطینی اسیران کو جسمانی اور نفسیاتی جبر دانستہ طبی غفلت ملاقاتوں سے محرومی سخت پابندیوں اور بھوک مسلط کرنے جیسی پالیسیوں کا سامنا ہے جو ان کی جان اور صحت کے لیے سنگین خطرہ بن چکی ہیں اور ان کی روزمرہ اذیتوں میں اضافہ کر رہی ہیں۔

تحریک نے عالمی برادری اقوام متحدہ اس کے اداروں اور متعلقہ بین الاقوامی انسانی حقوق اور انسانی ہمدردی کی تنظیموں سے مطالبہ کیا کہ وہ اسیران کے مسئلے پر خاموشی کا دائرہ توڑیں۔

حماس نے یہ مطالبہ بھی کیا کہ ان سفاک جرائم کو فوری طور پر روکا جائے فاشسٹ اسرائیلی قیادت کو جوابدہ ٹھہرایا جائے قابض اسرائیل کو جنیوا کنونشنز اور بین الاقوامی انسانی قانون کے احترام کا پابند بنایا جائے اور عالمی اداروں کو بغیر کسی پابندی کے جیلوں کے دورے اور اسیران کی حالت جانچنے کی اجازت دی جائے۔

بیان کے اختتام پر حماس نے عرب اسلامی اور عالمی اداروں تنظیموں اور عوامی حلقوں سے اپیل کی کہ وہ اسرائیل کی جیلوں میں قید اسیران کے حق میں وسیع تر یکجہتی مہمات منظم کریں تمام فریقوں پر دباؤ ڈالیں ان کی رہائی کا مطالبہ کریں اور ان کی انسانی تکالیف کے خاتمے کے لیے آواز بلند کریں نیز دنیا کو مسلسل یاد دلائیں کہ ہمارے اسیر محض اعداد و شمار نہیں بلکہ زندہ انسان ہیں جن کے حقوق زندگی اور وقار ہیں۔

The post اسرائیل کی جیلوں میں اسیران کی اذیت ناک صور ت حال کے خاتمے کے لیے عالمی اقدام ناگزیر ہوچا، حماس appeared first on شیعہ نیوز پاکستان.

​ 

spot_imgspot_img