spot_img

ذات صلة

جمع

کوئٹہ، الکوثر اسکاؤٹس کیجانب سے نونہالوں کیلئے جشن تکلیف کا انعقاد

شیعہ نیوز: الکوثر اسکاؤٹس اینڈ ویلفئیر سوسائٹی کی جانب...

ٹرمپ کا غزہ امن بورڈ

تحریر: ڈاکٹر راشد عباس نقوی پاکستان میں ٹرمپ کے تشکیل...

تشیعِ پاکستان کا سیاسی سفر: تحریک جعفریہ سے مجلس وحدت مسلمین تک

شیعہ نیوز: شہید قائد علامہ عارف حسین الحسینیؒ وہ نام ہیں جنہوں نے تشیعِ پاکستان کو محض مذہبی شناخت کے خول سے نکال کر قومی سیاست کے میدان میں لا کھڑا کیا۔ انہوں نے تحریک جعفریہ پاکستان کے ذریعے یہ واضح پیغام دیا کہ اگر تشیع کو اپنے اجتماعی حقوق کا تحفظ درکار ہے تو اسے ریاستی و سیاسی نظام کا فعال حصہ بننا ہوگا۔ یہی وہ فکر تھی جس نے تشیعِ پاکستان کے سیاسی سفر کی بنیاد رکھی۔ علامہ عارف حسینیؒ کی شہادت کے بعد تحریک جعفریہ کی قیادت علامہ سید ساجد علی نقوی کے ہاتھ آئی۔ اس دور میں جماعت نے انتخابی سیاست میں قدم رکھا۔

پارہ چنار جیسے اہم خطے سے قومی سطح پر جماعت کی حمایت اور کوششوں کے نتیجے میں دو سینیٹرز منتخب کروائے گئے، تاہم یہ بھی ایک تلخ حقیقت ہے کہ اس سیاسی عمل میں جماعتی تنظیم سے زیادہ انفرادی سرمایہ اور ذاتی وسائل فیصلہ کن ثابت ہوئے۔ گلگت بلتستان میں تحریک جعفریہ نے اپنی جماعتی شناخت کے ساتھ جو سیاسی کامیابیاں حاصل کیں، وہ اس خطے کی تاریخ میں ایک نمایاں باب ہیں۔ عوامی حمایت اور انتخابی قوت نے بعض ریاستی حلقوں کو خوفزدہ کیا، جس کے نتیجے میں تحریک جعفریہ پر پابندی عائد کر دی گئی۔

یہ بھی پڑھیں: جو کام نیتن یاہو نہ کر سکا وہ اب امن بورڈ کے نام پر شروع ہو گیا، علامہ ناصر عباس

اس پابندی نے نہ صرف جماعت بلکہ مجموعی طور پر تشیعِ پاکستان کے سیاسی عمل کو شدید نقصان پہنچایا اور ایک ابھرتی ہوئی سیاسی قوت کو عملاً غیر مؤثر بنا دیا۔ اس کے باوجود تحریک جعفریہ نے متحدہ مجلس عمل کے پلیٹ فارم سے سیاسی جدوجہد ترک نہیں کی۔ بطور اتحادی خیبر پختونخوا اسمبلی میں خواتین کی ایک مخصوص نشست اور ایک مشیر کا عہدہ حاصل کرنا، اس بات کا ثبوت ہے کہ جماعت نے مشکل حالات میں بھی سیاسی وجود برقرار رکھنے کی کوشش کی۔

دوسری جانب مجلس وحدت مسلمین بھی متحرک جماعت کے طور پر ابھری۔ ابتدا میں ایم ڈبلیو ایم نے اسٹریٹ پاور کے ذریعے تشیع کے حقوق کو قومی سطح پر اجاگر کیا، ملک بھر میں بڑے اجتماعات، دھرنوں اور عوامی تحریک نے جماعت کو کم وقت میں ایک مؤثر شناخت عطا کی۔ بعد ازاں مجلس وحدت مسلمین نے انتخابی سیاست میں قدم رکھا اور تاریخ میں پہلی مرتبہ کوئٹہ سے ایک شیعہ مذہبی جماعت کے ٹکٹ پر آغا رضا رضوی کو بلوچستان اسمبلی کا رکن منتخب کروایا، یہ محض ایک نشست نہیں بلکہ ایک علامتی پیش رفت تھی۔

پاکستان تحریک انصاف کے ساتھ انتخابی اتحاد کے نتیجے میں گلگت بلتستان میں ایم ڈبلیو ایم کو حکومت میں چار نشستیں ملیں، جو جماعت کی سیاسی حکمتِ عملی اور اتحاد سازی کی صلاحیت کو ظاہر کرتا ہے۔ قومی سطح پر ایک اور سنگِ میل اس وقت عبور ہوا جب پارہ چنار سے انجینئر حمید حسین قومی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے، یہ پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار ہوا کہ کسی شیعہ مذہبی جماعت کے ٹکٹ پر براہِ راست قومی اسمبلی کی نشست حاصل کی گئی۔ حالیہ عرصے میں جماعت کے سربراہ سینیٹر راجہ ناصر عباس جعفری کا سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر منتخب ہونا، ایم ڈبلیو ایم کی سیاسی بلوغت اور پارلیمانی قبولیت کا واضح ثبوت ہے۔

اگر تقابلی جائزہ لیا جائے تو تحریک جعفریہ پاکستان نے تشیعِ پاکستان کو سیاسی شعور دیا، راستہ دکھایا اور قربانیاں دیں، مگر ریاستی دباؤ، پابندیوں اور تنظیمی جمود نے اس کے سفر کو محدود کر دیا۔ اس کے برعکس مجلس وحدت مسلمین نے اسی شعور کو جدید سیاسی حکمتِ عملی، اتحادوں اور پارلیمانی سیاست کے ذریعے عملی کامیابیوں میں ڈھال دیا۔ یوں کہا جا سکتا ہے کہ تحریک جعفریہ پاکستان تشیعِ پاکستان کی سیاسی بنیاد تھی اور مجلس وحدت مسلمین اس بنیاد پر کھڑی ہونے والی توسیع۔ دونوں جماعتیں ایک ہی سیاسی سفر کی مختلف منزلیں ہیں اور تشیعِ پاکستان کی سیاسی تاریخ ان دونوں کے بغیر مکمل نہیں ہو سکتی۔

The post تشیعِ پاکستان کا سیاسی سفر: تحریک جعفریہ سے مجلس وحدت مسلمین تک appeared first on شیعہ نیوز پاکستان.

​ 

spot_imgspot_img