spot_img

ذات صلة

جمع

کوئٹہ، الکوثر اسکاؤٹس کیجانب سے نونہالوں کیلئے جشن تکلیف کا انعقاد

شیعہ نیوز: الکوثر اسکاؤٹس اینڈ ویلفئیر سوسائٹی کی جانب...

ٹرمپ کا غزہ امن بورڈ

تحریر: ڈاکٹر راشد عباس نقوی پاکستان میں ٹرمپ کے تشکیل...

ٹرمپ کا غزہ امن بورڈ

تحریر: ڈاکٹر راشد عباس نقوی

پاکستان میں ٹرمپ کے تشکیل کردہ غزہ امن بورڈ کے بارے میں پاکستان کی مذہبی  سیاسی جماعتوں کے علاوہ سیاسی تجزیہ نگار بھی کھل کر اپنے خیالات کا اظہار کر رہے ہیں۔ پاکستان کی اس بورڈ میں شمولیت غیر معمولی اہمیت رکھتی ہے۔ پاکستان ان چند ممالک میں شامل رہا ہے، جنہوں نے فلسطینی عوام کے حق خودارادیت، آزاد ریاست اور القدس الشریف کو دارالحکومت بنانے کے اصولی مؤقف سے کبھی انحراف نہیں کیا۔ عالمی دباؤ، بدلتے ہوئے علاقائی اتحاد اور وقتی مفادات کے باوجود پاکستان نے ہمیشہ اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق 1967ء سے قبل کی سرحدوں پر مشتمل آزاد فلسطینی ریاست کی حمایت کی ہے۔ ماضی میں کئی عالمی امن منصوبے اس لیے ناکام ہوئے کہ ان میں متاثرہ فریق کی خواہشات اور زمینی حقائق کو ثانوی حیثیت دی گئی۔ اگر غزہ امن بورڈ واقعی مؤثر ثابت ہونا چاہتا ہے تو اسے فلسطینی قیادت اور عوام کی آواز کو مرکز میں رکھنا ہوگا۔ فرانس، برطانیہ اور جرمنی جیسے اہم یورپی ممالک کا اس بورڈ میں شامل ہونے سے انکار کئی سوالات کو جنم دیتا ہے۔

ایک سینیئر پاکستانی سفارت کار نے ٹرمپ کے غزہ پلان میں شامل ہونے کے نتائج سے خبردار کیا ہے۔ سینیئر پاکستانی سفارت کار اور اقوام متحدہ، امریکہ اور برطانیہ میں سابق سفیر محترمہ ملیحہ لودھی نے ڈونلڈ ٹرمپ کے مجوزہ اقدام اور غزہ بورڈ میں شامل ہونے کے پاکستانی حکومت کے فیصلے پر کڑی تنقید کی ہے اور کئی اہم نکات اٹھائے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اسلام آباد نے ایک ایسا فیصلہ کیا ہے، جو واشنگٹن کے ساتھ صف بندی کرنے کے سیاسی اخراجات پر خاطر خواہ توجہ دیئے بغیر ہے اور اس سے پاکستان کی علاقائی اور اسلامی ساکھ کو نقصان پہنچ سکتا ہے، خاص طور پر غزہ جنگ کے انتہائی حساس ماحول میں پاکستان کا اقدام کئی سوال پیدا کر رہا ہے۔ محترمہ ملیحہ لودھی کے خیال میں، اس طرح کے اقدام سے ٹرمپ کا مقصد ان اقدامات کے لیے بین الاقوامی کوریج حاصل کرنا ہے، جو اصل میں یکطرفہ طور پر ڈیزائن کیے گئے تھے۔ یعنی اس فیصلے میں مختلف ممالک غیر ارادی طور پر “منظوری کی ایک “مہر” بلکہ ٹرمپ کے آلہ کار کا کردار ادا کر رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: کوئی پاکستانی تسلیم نہیں کرے گا کہ ہماری افواج کے ہاتھوں فلسطینی مظلوم عوام کا خون بہے، علامہ ناظر عباس تقوی

ملیحہ لودھی کے بقول اس اقدام سے فلسطینیوں کے ساتھ براہ راست تصادم کا خطرہ موجود ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر اس فورس اور بورڈ کے مشن میں حماس جیسے گروپوں کا جبری تخفیف اسلحہ شامل ہے تو رکن ممالک بشمول پاکستان فلسطینیوں کے ساتھ براہ راست تنازعہ میں ملوث ہوسکتے ہیں۔ جو فلسطینی کاز کی حمایت میں پاکستان کے روایتی اور اعلان کردہ موقف سے مکمل طور پر متصادم ہے۔ ٹرمپ اور نیتن یاہو کے ساتھ بیٹھنا جہاں اخلاقی سوالات کو جنم دیتا ہے، وہاں کثیرالجہتی عالمی نظام کو کمزور کرنے کے عمل میں شامل ہونے اور اقوام متحدہ کو نظرانداز کرنے کے مترادف ہے۔ ملیحہ لودھی کو خدشہ ہے کہ یہ ڈھانچہ مؤثر طریقے سے اقوام متحدہ کا ایک متوازی ادارہ بن جائے گا۔ ایک ایسا ادارہ، جو صرف غزہ تک ہی محدود نہیں رہے گا، بلکہ وسیع تر اور خطرناک اختیارات بھی حاصل کرسکتا ہے۔

بہرحال یہ حقیقت تسلیم کرنا ہوگی کہ غزہ کا مسئلہ کسی ایک بورڈ، ایک اجلاس یا ایک چارٹر سے حل نہیں ہوگا۔ یہ ایک طویل، پیچیدہ اور صبر آزما عمل ہے، جس کے لیے مستقل مزاجی، دیانت داری اور عالمی عزم درکار ہے۔ اگر عالمی برادری واقعی غزہ میں امن، انصاف اور انسانی وقار کی بحالی چاہتی ہے تو اسے فلسطینی عوام کو محض امداد کے مستحق نہیں بلکہ ایک آزاد اور باوقار قوم کے طور پر تسلیم کرنا ہوگا۔ بصورت دیگر غزہ ایک بار پھر عالمی ضمیر کی ناکامی کی علامت بن کر رہ جائے گا اور تاریخ یہ سوال پوچھتی رہے گی کہ جب موقع تھا تو دنیا نے کیا کیا۔

The post ٹرمپ کا غزہ امن بورڈ appeared first on شیعہ نیوز پاکستان.

​ 

spot_imgspot_img