حوزہ/تاریخ کبھی یکساں نہیں رہتی، وہ کبھی سوال بن کر ذہنوں کو بے چین کرتی ہے اور کبھی فیصلہ بن کر ضمیروں پر دستک دیتی ہے؛ ہر دور اپنے ساتھ کچھ ایسے سوال لے کر آتا ہے جن سے فرار ممکن نہیں ہوتا، چاہے سچ کو نظرانداز کیا جائے یا خاموشی کو حکمت کا نام دے دیا جائے۔ کیا ظلم کے سامنے خاموش رہنا انسانیت ہے، یا کمزوری کو شرافت کا نام دے دیا گیا ہے؟


