دنیا میں جب بھی کسی بڑے انسانی المیے کو “امن منصوبہ” کا نام دے کر پیش کیا جاتا ہے تو پہلا سوال نیت پر اٹھتا ہے، طریقہ کار پر نہیں۔ غزہ کے تناظر میں سامنے آنے والا نام نہاد “غزہ امن بورڈ” بھی اسی سوال کے گرد گھومتا نظر آتا ہے: کیا یہ واقعی امن کی سنجیدہ کوشش ہے یا طاقتور حلقوں کے مفادات کا نیا پلیٹ فارم۔؟ امن یا کاروباری ذہنیت۔؟ اس بورڈ کے خدوخال اور پس منظر پر نظر ڈالی جائے تو یہ تاثر مضبوط ہوتا ہے کہ یہ کسی غیر جانبدار انسانی مشن کے بجائے طاقتور سیاسی و معاشی حلقوں کی سوچ کا تسلسل ہے۔ امریکی سیاست، خاص طور پر ڈونلڈ ٹرمپ کے دور سے جڑی ہوئی سفارت کاری، اکثر “ڈیل میکنگ” یعنی سودے بازی کے انداز میں سامنے آئی۔
ایسے میں یہ سوال فطری ہے کہ: کیا جنگ زدہ خطے کے انسانی مسئلے کو بھی کارپوریٹ انداز میں “پروجیکٹ” بنا دیا گیا ہے۔؟ جب امن کی بات کے ساتھ ساتھ حماس اور غزہ کو “تہ تیغ کرنے” جیسی زبان سنائی دے، تو یہ تضاد واضح ہو جاتا ہے۔ امن کی بنیاد مکالمہ ہوتا ہے، دھمکی نہیں۔ جنگ کے ذریعے امن حاصل کرنے کا نظریہ تاریخ میں بارہا ناکام ہوچکا ہے۔
اقوام متحدہ کے مقابل متبادل فورم؟
عالمی مبصرین کی ایک رائے یہ بھی ہے کہ ایسے پلیٹ فارمز دراصل اقوام متحدہ جیسے عالمی اداروں کو بائی پاس کرنے کی کوشش ہوتے ہیں۔ اگر ہر طاقتور بلاک اپنا الگ “امن بورڈ” بنائے گا تو پھر عالمی قانون، اجتماعی فیصلے اور اقوام متحدہ کی حیثیت کہاں کھڑی ہوگی۔؟ یہ صورت حال سرد جنگ کے نظریاتی دور سے مختلف ہے۔ اس وقت دنیا نظریات میں تقسیم تھی، آج مفادات میں بٹی ہوئی ہے۔ اب “امن” بھی جیوپولیٹیکل مفاد کے تابع ہوتا جا رہا ہے۔
اسرائیل کا مفاد اور امریکی پالیسی
یہ سوال دہائیوں سے موجود ہے کہ امریکہ اسرائیل کے تحفظ کو اپنی خارجہ پالیسی کا بنیادی ستون کیوں بنائے ہوئے ہے۔ غزہ کے حالیہ حالات میں بھی یہی تاثر ابھرتا ہے کہ: جنگ بندی کے باوجود حملے جاری رہیں گے، شہری آبادی متاثر ہوتی رہے گی، مگر عالمی سطح پر طاقتور حلقے اسے نظر انداز کریں تو پھر ایسے میں “امن بورڈ” کی ساکھ خود بخود مشکوک ہو جاتی ہے۔ اگر مظلوم کی چیخ سنائی نہیں دیتی تو امن کی بات محض بیانیہ رہ جاتی ہے۔
ورلڈ اکنامک فورم اور امن کا سیاسی تھیٹر
ورلڈ اکنامک فورم جیسے معاشی پلیٹ فارم کے سائے میں ایسے کسی “امن بورڈ” کا قیام یہ تاثر دیتا ہے کہ انسانی بحران کو بھی عالمی پاور اسٹرکچر کے ایجنڈے سے جوڑ دیا گیا ہے۔ یہاں سوال یہ بنتا ہے کہ: کیا امن بھی اب جیو اکنامکس کا حصہ بن چکا ہے۔؟
پاکستان کا مؤقف، فلسطین اور کشمیر کا ربط
پاکستان کے لیے فلسطین کا مسئلہ محض خارجہ پالیسی کا ایک باب نہیں، بلکہ نظریاتی اور اخلاقی مؤقف کا حصہ ہے۔ جس طرح کشمیر میں حق خودارادیت کا اصولی مؤقف پاکستان نہیں چھوڑ سکتا، اسی طرح فلسطین کے مسئلے پر بھی خاموش تماشائی نہیں بن سکتا۔ سینیٹ اور پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں ایسے کسی فورم میں شمولیت کی مخالفت اس بات کی علامت ہے کہ ریاستی اداروں کے اندر بھی اس پلیٹ فارم پر تحفظات موجود ہیں۔ عوامی سطح پر بھی قائداعظم کے فلسطین سے متعلق واضح مؤقف کی حمایت پائی جاتی ہے۔
اصل سوال، کیا اس سے امن آئے گا؟
وفاقی حکومت چاہے سفارتی توازن کی خاطر کوئی موقف اختیار کرے، مگر بنیادی سوال اپنی جگہ قائم ہے: کیا ایسا فورم، جو طاقت کے زیر اثر ہو، واقعی پائیدار امن لا سکتا ہے۔؟ امن صرف اس وقت آتا ہے جب: انصاف ہو، طاقت کا یکطرفہ استعمال رکے، مقامی فریقوں کو حقیقی نمائندگی ملے۔ اگر غزہ کے اصل فریق ہی میز پر نہ ہوں اور فیصلے طاقتور دارالحکومتوں میں ہوں، تو یہ امن نہیں، انتظام ہوتا ہے اور تاریخ گواہ ہے کہ ایسا انتظام دیرپا نہیں ہوتا۔
پاکستان کے لئے چیلنج کیا ہے؟
نام نہاد غزہ امن بورڈ بظاہر امن کا عنوان رکھتا ہے، مگر اس کے گرد موجود سیاسی، سفارتی اور معاشی اشارے اسے ایک سیاسی اسٹیج کے زیادہ قریب دکھاتے ہیں۔ یہ کوشش اقوام متحدہ کے اجتماعی نظام کے مقابل ایک متبادل پاور پلیٹ فارم بھی محسوس ہوتی ہے، جہاں “امن” بیانیہ ہے اور مفاد اصل محرک۔ پاکستان کے لیے چیلنج یہی ہے کہ وہ: اصولی مؤقف بھی برقرار رکھے، سفارتی تنہائی سے بھی بچے اور تاریخ میں مظلوم کے ساتھ کھڑا نظر آئے، کیونکہ بعض فیصلے وقتی سفارت کاری سے نہیں، تاریخ کے میزان سے تولے جاتے ہیں۔
The post نام نہاد غزہ امن بورڈ، امن کی کوشش کے نام پر سیاسی اسٹیج ڈرامہ appeared first on شیعہ نیوز پاکستان.


