حوزہ/ایران کی جدید تاریخ میں اگر کوئی تسلسل کے ساتھ نظر آتا ہے تو وہ دہشت گردی کے واقعات ہیں—ایسے واقعات جن میں عام شہری، پڑھے لکھے طبقے، علما، سائنس دان، دانشور اور ریاستی ذمہ داران کو منظم انداز میں نشانہ بنایا گیا۔ یہ سب قتلِ عام نہیں، بلکہ ٹارگٹڈ دہشت گردی تھی، جس کا مقصد ایران اور اس کے معاشرے کو خوف، عدمِ استحکام اور فکری مفلوجی کی طرف دھکیلنا تھا۔


