شیعہ نیوز: جماعت اسلامی پاکستان کے نائب امیر لیاقت بلوچ نے کہا ہے کہ ملک کے کونے کونے میں فوج کی موجودگی کے باوجود امن قائم نہیں ہو سکا، جبکہ خیبر پختونخوا اور بلوچستان بدامنی، بھتہ خوری، ٹارگٹ کلنگ اور غیر محفوظ راستوں جیسے سنگین مسائل کا شکار ہیں۔ امریکہ، روس یا چین میں سے کوئی بھی ملک پاکستان کے مسائل کا مستقل حل فراہم نہیں کر سکتا، اصل ضرورت پاکستان، افغانستان اور ایران کے درمیان مضبوط، مستحکم اور بااعتماد تعلقات قائم کرنے کی ہے تاکہ دفاع، معیشت اور دیگر شعبوں میں باہمی تعاون کے ذریعے خطے میں پائیدار امن اور ترقی کو یقینی بنایا جا سکے۔ وہ بنوں میں الخدمت فاؤنڈیشن خیبر پختونخوا جنوبی کی جانب سے 15 جوڑوں کی اجتماعی شادیوں کے موقع پر منعقدہ تقریب سے خطاب کر رہے تھے۔ تقریب سے الخدمت فاؤنڈیشن پاکستان کے نائب صدر احسان اللہ وقاص، جماعت اسلامی خیبر پختونخوا جنوبی کے امیر پروفیسر محمد ابراہیم خان، سیکرٹری جنرل محمد ظہور خٹک، نائب امیر حاجی اختر علی شاہ، صدر الخدمت فاؤنڈیشن خیبر پختونخوا وسطی و جنوبی خالد وقاص،نائب صدر الخدمت خیبر پختونخوا جنوبی جلال شاہ، صدر الخدمت ضلع بنوں مطیع اللہ جان ایڈووکیٹ و دیگر نے خطاب کیا۔
اس موقع پر مختلف مکاتبِ فکر سے تعلق رکھنے والے افراد بھی شریک تھے۔ تقریب میں نو بیاہتا جوڑوں کو لاکھوں مالیت کا جہیز کا سامان فراہم کیا گیا۔ لیاقت بلوچ نے اپنے خطاب میں کہا کہ آج کا دور جنریشن زی، آئی ٹی اور ایجادات کا دور ہے، ضرورت اس امر کی ہے کہ نوجوان نسل کو مثبت سرگرمیوں کی طرف راغب کیا جائے اور آئی ٹی و جدید ایجادات کو تعلیم، تحقیق، کاروبار کی بہتری اور صنعت کی ترقی کے لیے استعمال کیا جائے، نہ کہ منفی سرگرمیوں اور تخریب کاری کے لیے۔ انہوں نے تیراہ میں برفباری کے باعث عوام کی ہجرت پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہاں کے لوگ موسم کی شدت اور ہجرت کے باعث شدید مشکلات کا شکار ہیں مگر نہ وفاقی حکومت اور نہ ہی صوبائی حکومت اس حقیقت کو تسلیم کرنے کو تیار ہیں کہ لوگ ہجرت پر مجبور ہو چکے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ الخدمت فاؤنڈیشن متاثرین کی مدد کے لیے سرگرم ہے اور ہر ممکن طریقے سے امداد پہنچانے کی کوشش کر رہی ہے۔
لیاقت بلوچ نے کہا کہ الخدمت فاؤنڈیشن نہ صرف ملک کے اندر بلکہ غزہ میں بھی امدادی سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہے۔ ملک میں آغوش مراکز، ہسپتالوں اور سکولوں کا جال بچھایا جا چکا ہے، جو انسانیت کی خدمت کی روشن مثال ہے۔انہوں نے ملک کی موجودہ صورتحال پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ فوجی جنتا کا راج، سودی معیشت، بڑھتے ہوئے قرضے اور بدعنوانی نے عوام کو بدترین معاشی دباؤ میں مبتلا کر دیا ہے۔ حکمران اپنی عیاشیوں کا بوجھ عوام پر منتقل کر رہے ہیں، جس کے نتیجے میں بے روزگاری میں اضافہ، کاروبار کی تباہی اور عوام کی قوتِ خرید کے خاتمے جیسے مسائل پیدا ہو چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بے شمار وسائل کے باوجود معاشی سیکٹر بری طرح متاثر ہے اور مسائل کا انبار لگا ہوا ہے۔ لیاقت بلوچ نے تعلیم، صحت اور روزگار کو عوام کے بنیادی حقوق قرار دیتے ہوئے کہا کہ تعلیمی نظام طبقاتی تقسیم کا شکار ہے، صحت کی سہولیات عام آدمی کی دسترس میں نہیں، امن اور سکون کی زندگی گزارنے کا حق سلب ہو چکا ہے۔
The post پاکستان، ایران اور افغانستان کے درمیان مضبوط اور بااعتماد تعلقات قائم کرنے کی ضرورت ہے، لیاقت بلوچ appeared first on شیعہ نیوز پاکستان.


