spot_img

ذات صلة

جمع

یورپ بحران کی آگ کو مزید ہوا دینے میں مصروف ہے: سید عباس عراقچی

تہران/ ارنا- وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے اپنے...

جرمن سفیر وزارت خارجہ میں طلب

تہران/ ارنا- تہران میں جرمن سفیر ایکسل ڈیٹمین کو...

پاکستان کے وزیر اعظم اور صدر مسعود پزشکیان کی ٹیلی فونی گفتگو

اسلام آباد/ ارنا- پاکستان کے وزیر اعظم کے دفتر...

طالبان کا نیا چارٹر اور شیعہ حقوق

تحریر: ڈاکٹر راشد عباس نقوی

افغان انسانی حقوق تنظیم نے افغان عدالتوں کے لیے طالبان کے نئے فوجداری ضابطے پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔ افغان جریدے کے مطابق طالبان کے سربراہ ہیبت اللّٰہ اخوندزادہ نے حال ہی میں طالبان عدالتوں کے نئے فوجداری طریقہ کار کے ضابطوں کی منظوری دی ہے، طالبان کا یہ فوجداری ضابطہ افغان عدالتی اداروں میں نافذ کرنے کے لیے جاری کر دیا گیا ہے۔ افغان انسانی حقوق گروپ رواداری کا کہنا ہے کہ طالبان کا فوجداری ضابطہ اقلیتوں کے خلاف امتیازی سلوک کے مترادف ہے، یہ فوجداری ضابطہ بنیادی آزادی کو محدود کرتا ہے۔ پاکستان علماء کونسل (پی یو سی) نے افغانستان میں مبینہ طور پر شریعت کے نام پر معاشرے کو مختلف سماجی طبقات میں تقسیم کرنے کی اطلاعات پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے اقدامات قرآنِ کریم، سنتِ رسولﷺ اور اسلامی تعلیمات کے سراسر منافی ہیں۔

پاکستان علماء کونسل کے چیئرمین حافظ محمد طاہر محمود اشرفی کی قیادت میں جاری مشترکہ بیان میں سینیئر علماء کرام، جن میں مولانا نعمان حاشر، مولانا محمد شفیع قاسمی، مولانا حافظ مقبول احمد، علامہ طاہرالحسن، مولانا طاہر عقیل اعوان، مولانا عزیز اکبر قاسمی، مولانا محمد اشفاق پتافی اور دیگر شامل ہیں، انہوں نے خبردار کیا کہ اسلام کے نام پر معاشرے کو “آزاد” اور “غلام” جیسے طبقات میں تقسیم کرنے کی کوئی گنجائش نہ قرآن میں ہے اور نہ ہی سنتِ نبویﷺ میں۔ علماء نے واضح کیا کہ اس نوعیت کی درجہ بندی اسلامی تعلیمات سے قطعی طور پر متصادم ہے اور اس کا تعلق قبل از اسلام یا غیر اسلامی سماجی نظاموں سے جا ملتا ہے، جہاں انسانوں کو پیدائش، حیثیت یا نسل کی بنیاد پر مختلف طبقات میں بانٹا جاتا تھا۔ انہوں نے کہا کہ اسلام نے نبی اکرمﷺ کی بعثت کے بعد ہر قسم کی غلامی اور نسلی و طبقاتی برتری کو ہمیشہ کے لیے ختم کر دیا۔

افغانستان کی صورتحال کا حوالہ دیتے ہوئے پاکستان علماء کونسل نے افغان طالبان حکام، جو خود کو اسلامی اور شریعت پر مبنی حکومت قرار دیتے ہیں، مطالبہ کیا کہ وہ ان معاملات پر فوری طور پر اپنا واضح مؤقف عالمی برادری کے سامنے رکھیں۔ کونسل نے اسلام کے نام پر دورِ جاہلیت سے وابستہ رسوم و روایات کے احیاء کے خلاف سخت تنبیہ بھی کی۔ بیان میں کہا گیا کہ “اسلام نے جاہلیت کے ان تمام رسم و رواج کا خاتمہ کر دیا تھا، جن میں انسانوں کو غلام بنایا جاتا، خواتین کے حقوق سلب کیے جاتے اور معاشرے کو سخت طبقاتی بنیادوں پر تقسیم کیا جاتا تھا۔” علماء نے رسول اکرمﷺ کے اس تاریخی فرمان کی یاد دہانی کرائی کہ کسی عربی کو عجمی پر، کسی عجمی کو عربی پر، کسی گورے کو کالے پر اور کسی کالے کو گورے پر کوئی فضیلت حاصل نہیں، سوائے تقویٰ کے۔ پاکستان علماء کونسل نے خبردار کیا کہ اس طرح کے مبینہ اقدامات نہ صرف اسلام کے اصولِ مساوات اور عدل کو مجروح کرتے ہیں بلکہ انسانی وقار کی توہین کے مترادف بھی ہیں۔

کونسل کے مطابق ایسے احکامات کو شریعت کے زمرے میں نہیں لایا جا سکتا بلکہ یہ “جدید دور کی جاہلیت” کی عکاسی کرتے ہیں۔ کونسل نے افغان حکام سے اپیل کی کہ وہ اسلام کی حقیقی روح، جو مساوات، انصاف اور انسانی عزت و وقار پر مبنی ہے، کو ملحوظِ خاطر رکھیں اور اس امر کو یقینی بنائیں کہ کوئی بھی پالیسی یا فیصلہ قرآن و سنت کی آفاقی اور ابدی تعلیمات کے خلاف نہ ہو۔ افغانستان کے مسائل کے ماہر اسماعیل باقری نے طالبان کے چارٹر کی تفصیلات اور آج کی دنیا کے قانونی حقائق کے ساتھ اس کی تعمیل کی وضاحت کرتے ہوئے کہا ہے کہ جب سے طالبان اگست 2021ء میں برسراقتدار آئے، اس گروپ نے ظاہر شاہ کے دور میں منظور شدہ آئین کی پاسداری کا دعویٰ کیا، لیکن یہ صرف ان کی داخلی شکل تھی، جس سے طالبان کی حکومت کے خلاف احتجاج کو کم کرنے کی کوشش کی گئی، جبکہ عملی طور پر، ملا ہیبت اللہ کے جاری کردہ احکام اور فتوے تھے، جو طالبان کے زیر کنٹرول ہر علاقے میں مختلف طریقے سے نافذ کیے گئے تھے، اب جبکہ افغانستان میں نسبتاً استحکام قائم ہوچکا ہے، چار سال سے زائد عرصے کے بعد، انہوں نے اپنا نیا فوجداری عدالتی چارٹر تیار کیا ہے۔

اس بات پر زور دیتے ہوئے کہ چارٹر میں قانونی جواز نہیں ہے، باقری نے کہا، “موجودہ افغان حکومت کسی قومی معاہدے کی پیداوار نہیں ہے، بلکہ ملک کے تمام ڈھانچے پر طالبان کا تسلط ہے اور وہ افغانستان پر تسلط کے اصول کی بنیاد پر حکومت کرتے ہیں۔ دوحہ معاہدوں کے مطابق، بین الافغان مذاکرات کا انعقاد تمام داخلی سیاسی جماعتوں کے ساتھ ہونا لازم تھا، لیکن طالبان حکومت نے کسی کے ساتھ مذاکرات  نہیں کیے۔ ان کا دعویٰ ہے کہ چونکہ وہ معاشرے کی اکثریت کی نمائندگی کرتے ہیں اور طاقت کے ذریعے اقتدار پر قبضہ کرنے میں کامیاب رہے ہیں، انہیں سیاسی ڈھانچے میں دیگر تحریکوں اور اقلیتوں کی شرکت کی ضرورت نظر نہیں آتی۔ باقری کے مطابق موجودہ حالات میں اور طالبان کے غلبے کی وجہ سے کسی بھی اقلیت کا حکومتی عمل میں کوئی کردار یا شمولیت نہیں ہے اور تمام معاملات طالبان کی قیادت میں پشتونوں کے ہاتھ میں ہیں۔ اس لیے اس چارٹر کے سامنے سب سے اہم چیلنج وہ عدم مساوات اور اضافی مراعات ہیں، جو پشتونوں کے حق میں اور دوسری نسلوں کے لیے نقصان دہ سمجھی جاتی ہیں۔

افغان امور کے اس ماہر کے مطابق طالبان اس اصول کو کسی بھی اختلاف رائے کو خاموش کرنے کے لیے استعمال کر رہے ہیں، تاکہ حکومت کے خلاف عوامی تحریک کی تشکیل کو روکا جا سکے۔ یہ نقطہ نظر بتدریج آمرانہ یا جابرانہ حکومت کے قیام کی راہ ہموار کرے گا۔ مجرموں کے لیے جو بھاری سزائیں مقرر کی گئی ہیں، وہ جدید قانونی نظاموں کے مقابلے قدیم دور اور جہالت کے دور کی یاد دلاتی ہیں، جس سے افغان عوام میں مایوسی اور ناگواری بڑھ رہی ہے۔ اس بارے میں کہ آیا عبوری حکومت کے دو اہم گروپوں، حقانی تحریک اور قندھار تحریک کے درمیان اتفاق رائے ہے، باقری نے کہا ہے کہ “افغانستان میں، کابل اور قندھار کی کونسل ہے اور جب بھی ان کے حالات اور مفادات کی ضرورت ہوتی ہے، وہ ایک دوسرے کے ساتھ مل کر کام کرتے ہیں اور بلا شبہ انہوں نے اس اصول پر مشاورت کی ہے، تاہم، حقانی نیٹ ورک اپنے آپ کو متوازن نیٹ ورک کے طور پر ظاہر کرنا چاہتا ہے اور یہ کوشش کر رہا ہے کہ وہ دوسروں کے ساتھ تعاون کرے۔

دوسری اقلیتوں کے ساتھ بات چیت کرے، البتہ یہ پالیسی زیادہ تر ملا ہیبت اللہ کے ساتھ مقابلے کی وجہ سے ہے، جو کہ پشتونوں اور طالبان کے درمیان مقابلے کا حصہ ہے، تاہم طالبان، اگر ان کے مفادات کی ضرورت نہیں ہے تو وہ اپنے زیر کنٹرول علاقوں میں اپنی مرضی کے مطابق قوانین کا نفاذ کرتے ہیں۔ اقلیتوں کیلئے اصولوں کے نفاذ کے نتائج کے بارے میں اس افغان ماہر کا کہنا ہے کہ اگر ان ضوابط پر مکمل طور پر عمل درآمد ہوگیا تو غیر پشتونوں کے لیے پابندیاں بڑھ جائیں گی اور اقلیتیں بتدریج اپنی طاقت اور حیثیت کھو دیں گی اور ان کی آبادی بھی کم ہوسکتی ہے۔ طالبان حکومت نے اقلیتوں کو ان کے شناختی کارڈ میں بطور پشتون رجسٹر کرنے کے لیے بھی کچھ اقدامات کیے ہیں۔ ان اصولوں کی بنیاد پر، جو حنفی مکتبہ فکر کے مطابق بنائے گئے تھے، دیگر مذاہب کے عقائد اور حقوق کو مدنظر نہیں رکھا گیا ہے۔ نتیجتاً ان قوانین کے نفاذ سے اہل تشیع اور خاص طور پر ہزارہ برادری کو مزید مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا اور یہ بھی ممکن ہے کہ مستقبل میں افغانستان میں محرم اور اربعین کی تقریبات سمیت مذہبی رسومات پر پابندی لگ جائے۔

یہ پابندیاں آہستہ آہستہ غیر پشتون کمیونٹی کو کمزور کر دیں گی اور اس کی فکری اور سماجی صلاحیت کو کم کر دیں گی، جس سے حکومت کے خلاف احتجاج اور شہری مزاحمت کا امکان کم ہو جائے گا۔ افغان ماہر اسماعیل باقری کے مطابق، اس طرح کے نقطہ نظر کا تسلسل بالآخر افغانستان کو مکمل طور پر طالبان کے مرکز کی طرف دھکیل سکتا ہے۔ اس ماہر کے مطابق پشتونوں کو سیاسی شعبے کے علاوہ معاشی میدان میں بھی زیادہ مراعات حاصل ہیں اور ایسے پروگراموں کو نافذ کرکے طالبان دیگر نسلبوں کے لیے پشتون بننے کی راہ ہموار کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ان پالیسیوں کے ساتھ طالبان کا بنیادی مقصد افغانستان کی آبادیاتی ساخت کو پشتونوں کے حق میں تبدیل کرنا ہے، اس رجحان پر کئی دہائیوں سے مقامی حکومتیں کم و بیش عمل پیرا ہیں۔

اسماعیل باقری نے مزید کہا ہے کہ پیدائش کی شرح میں نمایاں اضافے کے ساتھ، پشتون برادری دیگر نسلی گروہوں کے مقابلے اپنی آبادی کو بڑھانے اور اس طرح اپنی خود مختاری کی بنیادوں کو مضبوط کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ “سنی گروہ خصوصاً پشتون مذہبی مدارس میں تعلیمی حالات کو اپنے حق میں ترتیب دینے کی کوشش کر رہے ہیں اور دیگر اقلیتیں اگر پڑھنا اور پڑھانا چاہیں تو طالبان کے مخصوز ضابطوں پر عمل کرنے پر مجبور ہیں۔ حتیٰ کہ پشتو زبان نے فارسی/دری اور ملک کی دیگر عام زبانوں کی جگہ لے لی ہے۔ شیعوں سے متعلق قوانین کو بھی قانونی ڈھانچے سے ہٹا دیا گیا ہے اور آئین میں اس آئینی حق کا ذکر نہیں رکھا گیا۔ ملک کا آبادیاتی ڈھانچہ پشتونوں کے حق میں بدل جائے گا، جس کے نتیجے میں بالآخر ایک قسم کی “طالبانیت” یا افغانستان پر پشتون طالبان کے تسلط پر مبنی ایک آمرانہ نظام لمبے عرصے کے لئے قائم ہو جائے گا۔

The post طالبان کا نیا چارٹر اور شیعہ حقوق appeared first on شیعہ نیوز پاکستان.

​ 

spot_imgspot_img