شیعہ نیوز: امریکی صدر ٹرمپ کے عراق میں آئندہ وزیر اعظم کے انتخاب سے متعلق مداخلت آمیز بیانات کے بعد، عراقی شہری بغداد کے پل معلق علاقے میں مظاہرے پر نکلے اور ملک کی خودمختاری اور قومی فیصلوں کی حمایت کا اظہار کیا۔
فارس نیوز ایجنسی کے مطابق، مظاہرین نے ٹرمپ کے عراق میں نئی حکومت کے قیام سے متعلق بیانات کی شدید مذمت کی اور ملک کے داخلی امور میں کسی بھی مداخلت کی مخالفت کا اعلان کیا۔
عراقی مظاہرین نے نعرے لگائے جیسے: ہاں عراق، نہیں امریکہ، اسرائیل اور شیطان، اور امریکی پرچم اور ٹرمپ کی تصاویر کو آگ لگا دی۔
یہ بھی پڑھیں : یورپ بحران کی آگ کو مزید ہوا دینے میں مصروف ہے، سید عباس عراقچی
عراق کے شیعہ سیاسی گروپس نے بھی الگ الگ بیانات جاری کیے اور امریکی صدر کے عراق کے داخلی امور میں مداخلت آمیز بیانات اور نوری مالکی کی وزیر اعظم کے عہدے کے لیے نامزدگی کی مخالفت کی شدید مذمت کی۔
عراق کے سابق وزیر اعظم اور ائتلاف دولت القانون کے رہنما نوری المالکی نے بھی ٹرمپ کے حالیہ بیانات پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ امریکہ کی عراق کے داخلی امور میں مداخلت کی شدید مذمت کرتے ہیں اور اسے ملک کی قومی خودمختاری کی کھلی خلاف ورزی قرار دیتے ہیں۔
مالکی نے کہا کہ ہم عراق کے داخلی امور میں امریکی مداخلت قبول نہیں کرتے اور اسے عراقی عوام کے حقِ حاکمیت پر حملہ سمجھتے ہیں۔
ائتلاف دولت القانون کے رہنما نے مزید کہا کہ وزیر اعظم کا انتخاب مکمل طور پر ملکی خودمختاری کا فیصلہ ہے اور اس میں کسی بھی خارجی مداخلت کو قبول نہیں کیا جائے گا۔ لہٰذا وہ عوام کے اعلیٰ مفادات کے حصول کے لیے چارچوبی تعاون کے تحت اپنی کوششیں جاری رکھیں گے۔
امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے گزشتہ شب اپنے سوشل میڈیا پیغام میں عراق کے داخلی امور میں مداخلت کرتے ہوئے نوری المالکی کے وزیر اعظم بننے کی مخالفت کا اعلان کیا تھا۔
The post عراق: وزارت عظمیٰ کے انتخابات میں ٹرمپ کی مداخلت کے خلاف سینکڑوں افراد کا مظاہرہ appeared first on شیعہ نیوز پاکستان.


