حوزہ/11 فروری 1979 کو دنیا کے نقشے پر ایک قطعہ زمین پر بظاہر ایک بادشاہت کا خاتمہ اور ایک مذہبی طبقے کو اقتدار مل گیا مگر اس انقلاب نے عالمی بساط پر شطرنج کی بازی بچھانے والوں کو مخمصے میں ڈال دیا۔ ان کے مہرے بکھرنے لگے، شطرنج کی بازی کا سب سے بڑا مہرہ بادشاہ کہلاتا ہے، لیکن اس بچارے بادشاہ کو بازی گر گردن سے پکڑ کر اِدھر اُدھر بٹھاتا رہتا ہے۔ ایسا ہی کچھ شاہ ایران رضا شاہ پہلوی کے ساتھ ہوا، وہ اپنے کو بادشاہ ہی سمجھتا رہا، جبکہ اس کی گردن کسی اور کے ہاتھ میں تھی۔


