spot_img

ذات صلة

جمع

ایران کے وزیر خارجہ تہران سے جنیوا کے لیے روانہ؛

تہران (IRNA) اسلامی جمہوریہ ایران کے وزیر خارجہ سید...

میجر جنرل موسوی: ایران کے ساتھ جنگ ​​ٹرمپ کے لیے نشان عبرت ہوگی

تہران (IRNA) مسلح افواج کے چیف آف اسٹاف میجر...

دہشتگرد عناصر کیخلاف سخت ترین کارروائی ناگزیر ہے، سید علی رضوی

شیعہ نیوز: صوبائی صدر مجلس وحدتِ مسلمین گلگت بلتستان...

حماس نے غزہ امن فورس کیلئے شرائط واضح کر دیں

شیعہ نیوز: غزہ بورڈ آف پیس کے جمعرات کو...

سفارتکاری لبنان کیخلاف جارحیت کو کبھی روک نہیں پائی، حزب اللہ

شیعہ نیوز: لبنانی پارلیمنٹ میں مزاحمتی محاذ کے ساتھ وابستہ اتحاد الوفاء للمقامۃ کے نمائندے شیخ حسن فضل اللہ نے یارون نامی قصبے کے قریب قابض صیہونی ریجیم کی حالیہ نقل و حرکت کا ذکر کرتے ہوئے، بار بار کی اسرائیلی شرارتوں کے خلاف سنجیدہ چوکسی کا مطالبہ کیا اور زور دیتے ہوئے کہا کہ اس تمام تر دباؤ کے باوجود، جنوب کے لوگ ان شرارتوں کے مقابلے میں عملی طور پر مصروف ہیں۔ شیخ فضل اللہ نے زور دیتے ہوئے کہا کہ لبنانی حکومت اور اس کے سرکاری اداروں کو ملکی خودمختاری کے تحفظ کی پوری ذمہ داری قبول کرنی چاہیئے، خاص طور پر دریائے لیطانی کے جنوب میں کہ جو ایک ایسا علاقہ ہے کہ جس پر اس حکومت کا مکمل کنٹرول بھی ہے۔ لبنانی حکومت کے سرکاری طریقہ کار کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مسئلہ ہمیشہ سیاسی فیصلے کا رہا ہے، سکیورٹی فورسز کے ساتھ نہیں رہا.. اور آج بھی “سفارتکاری” ہی کی بات ہو رہی ہے لیکن اس سفارتکاری نے اب تک نہ تو لبنانی شہریوں کو کوئی تحفظ فراہم کیا ہے، نہ جارحیت کو روکا ہے اور نہ ہی تعمیر نو کی بنیاد فراہم کی ہے۔ شیخ فضل اللہ نے کہا کہ اس مرحلے پر حزب اللہ کا موقف واضح ہے کہ حکومت اپنی تمام ذمہ داریوں پر عمل کرے اور قابض صیہونی ریجیم کی جارحیت کو روکنے کے لئے اپنی پوری قوت استعمال میں لائے۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے شہر بازوریہ میں مزاحمتی محاذ کے شہداء کی یاد میں منعقدہ ایک تقریب میں کیا کہ جس میں مختلف عوامی طبقات کے ساتھ ساتھ شہداء کے اہلخانہ نے بھی شرکت کی۔ “جنگ اور امن کے فیصلے” سے متعلق موضوعات کی جانب اشارہ کرتے ہوئے شیخ فضل اللہ نے کہا کہ کہا جاتا ہے کہ یہ فیصلہ، حکومت کے ہاتھ میں ہونا چاہیئے لیکن آج لبنان میں جو کچھ دیکھا جا رہا ہے وہ زیادہ تر “ہتھیار ڈالنے کا فیصلہ” ہے درحالیکہ سفارتکاری کا مطلب “دشمن کے مقابلے میں عقب نشینی” نہیں! انہوں نے لبنان کے خلاف ہمہ گیر جنگ کے بارے بھی بات کی اور زور دیتے ہوئے کہا کہ یہ جنگ محض فوجی نہیں بلکہ سکیورٹی، سیاسی، میڈیا، مالی اور اقتصادی میدانوں میں جنگ بھی ہے.. کہ جس میں رائے عامہ کو دھوکہ دینے اور مشتعل کرنے کی کارروائیاں بھی انجام دی جاتی ہیں، لیکن جن لوگوں نے یہ سمجھ لیا کہ لبنانی عوام اب تھک ہار چکے ہیں، وہ واضح طور پر فریب کا شکار ہو گئے۔

لبنانی رکن پارلیمنٹ نے متاثرہ علاقوں کی تعمیر نو سے متعلق حکومت کی بنیادی ذمہ داری پر تاکید کرتے ہوئے کہا کہ حزب اللہ، حکومت اور پارلیمنٹ میں تعمیر نو کی مسلسل پیروی کر رہی ہے جبکہ اس مسئلے کو سیاست سے دور رکھتے ہوئے ایک قومی مسئلے کے طور پر آگے بڑھانا چاہیئے، خاص طور پر جنوبی فرنٹ لائن کے دیہاتوں میں۔ پارلیمانی انتخابات کی جانب اشارہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہم اصولوں، اتحاد اور عوام پر بھروسہ کرتے ہوئے اس میدان میں اترے ہیں جبکہ ہر مزاحمت اور ہر حکومت کی اصلی طاقت، اسلحے سے قبل، اس کے عوام میں ہوتی ہے لہذا قومی شراکتداری کے میدان میں کوئی بھی فریق، ہماری پوزیشن کو کمزور نہیں بنا سکتا۔

اپنی تقریر کے آخر میں انہوں نے خطے کی صورتحال پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ ایران کے خلاف وسیع دباؤ اور فوجی خطرات کے لاحق کئے جانے کی واحد وجہ؛ اس ملک کی جانب سے فلسطین، اسلامی مزاحمت اور مظلوم اقوام کے ساتھ آ کھڑا ہونا ہے جیسا کہ اسلامی جمہوریہ ایران نے 1979 سے لے کر اب تک، نہ صرف ہر ایک مرحلے پر ہمارا ساتھ دیا ہے بلکہ اپنے لئے کچھ طلب کئے بغیر، اس حمایت کی بھاری قیمت بھی چکائی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ حزب اللہ لبنان، پورے اطمینان کے ساتھ اسلامی جمہوریہ ایران، اس کی قیادت اور ایرانی قوم کے شانہ بشانہ کھڑی ہے!

The post سفارتکاری لبنان کیخلاف جارحیت کو کبھی روک نہیں پائی، حزب اللہ appeared first on شیعہ نیوز پاکستان.

​ 

spot_imgspot_img